پاک افغان سرحد کی بندش سے ازبکستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت کیسے متاثر ہوئی ہے؟

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی معاہدوں کے مستقبل پر اس وقت سوالیہ نشان لگ گیا جب پاک افغان کشیدگی کے بعد سرحدی گزرگاہوں کو تمام قسم کی آمدورفت کے لیے غیر معینہ مدت تک بند کر دیا گیا۔ خشکی میں گھرے ہوئے ملک کی حیثیت سے ازبکستان سمندر تک رسائی اور دو طرفہ تجارت کے لیے افغانستان کے راستے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم جہاں 434 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، وہیں مستقل بنیادوں پر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں اسے دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت ازبکستان کو پاکستان کی بندرگاہوں کراچی، بن قاسم اور گوادر تک براہِ راست رسائی حاصل ہے، مگر افغانستان جیسے اہم اور نسبتاً آسان تجارتی راستے کی بندش پر ماہرین شدید خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستان فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور پاک ازبک بزنس کونسل کے چیئرمین دارو خان اچکزئی نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ’’پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت ازبکستان کے ساتھ ہماری تجارت افغانستان کے راستے ہوتی ہے، جبکہ وہاں سے ہماری بندرگاہوں تک رسائی کا انحصار بھی اسی راستے پر ہے۔‘‘

دارو خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود ناکافی ہے۔ پاکستان ازبکستان سے اجناس اور کپاس درآمد کرتا ہے، جبکہ برآمدات میں پھل، سبزیاں اور گارمنٹس شامل ہیں، تاہم دو طرفہ تجارت کا موجودہ حجم حوصلہ افزا نہیں۔

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت کے لیے بنیادی طور پر طورخم، چمن اور غلام خان سرحدی گزرگاہیں استعمال ہوتی ہیں، جبکہ ایران کے راستے ترکمانستان کے ذریعے بھی برآمدات اور درآمدات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

دارو خان افغانستان کی صورتحال کے باعث تجارت کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ازبکستان سمیت تمام وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔ اس وقت ازبک تاجروں کی مال بردار گاڑیاں کراچی بندرگاہ اور سرحدی گزرگاہوں پر پھنسی ہوئی ہیں، جس سے ان کے اخراجات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ازبکستان اپنی آبادی اور انفراسٹرکچر کی وجہ سے وسطی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے، مگر بدامنی کے باعث دو طرفہ تمام تجارتی معاہدے متاثر ہو رہے ہیں۔

کوئٹہ چیمبر کے سابق عہدیدار اور تاجر بدرالدین نے تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کے راستے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان آلو کی درآمدات خاصی زیادہ تھیں۔ سرحد کی بندش کے باعث ہمارے ہاں کسانوں کو اس فصل کی کاشت میں شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ نتیجتاً کسان گندم کی فصل پر خرچ کرنے کے قابل نہیں رہے، کیونکہ پاکستان میں فصلیں موسمی اعتبار سے ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں۔ یوں ایک فصل میں ہونے والا نقصان اگلی فصل کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اسی راستے کے ذریعے پاکستان وسطی ایشیا اور ازبکستان کو کینو بھی برآمد کرتا تھا، جو رواں موسم میں خاصا متاثر ہوا ہے۔ بدرالدین کے مطابق ان فصلوں کی تجارت سے سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کو ہوتا تھا، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سروس بیسڈ انڈسٹری اس سے وابستہ تھی۔ یوں گاڑی کے پہیے سے چلنے والی پوری معیشت جمود کا شکار ہو گئی، اور برآمدات کی مد میں زرِ مبادلہ کو بھی نقصان پہنچا۔

ان کے مطابق چاول کی ایک مخصوص مقدار بھی افغانستان اور اس کے راستے ازبکستان برآمد کی جاتی تھی، تاہم دیگر فصلوں کے ساتھ یہ تجارت بھی معطل ہو چکی ہے۔ اس پوری صورتحال میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی نہیں ہو رہی، اور انہیں آئندہ فصل کی کاشت میں فائدہ نظر نہیں آتا۔ اس طرح مجموعی پیداوار اور اس سے جڑی معیشت کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ازبکستان کی پاکستان سے درآمدات میں 12 فیصد جبکہ برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور یہ برآمدات مستقبل میں 2 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ازبکستان میں 228 پاکستانی کمپنیاں فعال ہیں، جبکہ گزشتہ سال 80 نئی پاکستانی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں آئی۔

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت بنیادی طور پر زمینی راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، جن میں افغانستان سے گزرنے والی ٹرانس افغان راہداری سب سے اہم ہے۔ یہ راستہ پاکستان کی بندرگاہوں کراچی اور گوادر کو وسطی ایشیا سے ملاتا ہے۔ تاہم ضیاء الحق سرحدی کے مطابق افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال اور سرحدی کشیدگی نے ازبکستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ پاکستان کی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث تقریباً 2.5 ارب ڈالر کا تجارتی حجم خطرے میں پڑ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور سرحدی بندش کے باعث ازبکستان جانے والی ٹرانزٹ تجارت اور سیمنٹ کی برآمدات بھی معطل ہو گئی ہیں۔ متبادل راستوں کی تلاش یا طویل انتظار کے باعث ٹرانسپورٹ اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے تاجروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے کلیدی زمینی راستے کی بندش نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات اور دیگر تجارتی منصوبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ضیاء الحق سرحدی کے مطابق اکتوبر سے سیمنٹ کی برآمدات میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ زمینی راستے بند ہونے کے باعث برآمدی اہداف حاصل نہیں ہو پا رہے۔

افغانستان کے راستے کے بغیر ازبکستان کے ساتھ تجارت کے لیے سمندری اور زمینی راستے (بذریعہ ایران) یا فضائی راہداری کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایران کے راستے بندر عباس، چابہار اور پھر ترکمانستان کے ذریعے، یا ایران کے شمال مغربی راستے سے زمینی تجارت ممکن ہے۔

تاہم تجارتی ماہرین کے مطابق فاصلے اور لاگت کے اعتبار سے یہ راستہ مشکل ثابت ہوتا ہے، جبکہ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال بھی اس میں رکاوٹ ہے۔ ماہرین نے ازبک صدر شوکت مرزائیوف کے متوقع دورۂ پاکستان کو ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس دوران ان تمام رکاوٹوں پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور کسی پائیدار حل کی راہیں کھلیں گی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں