پاکستان اور قازقستان کا دو طرفہ تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق، 27 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےاعلان کیا کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کو آئندہ ایک سال کے دوران بڑھا کر ایک ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں اس ہدف کے حصول کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، تاہم اس کے لیے طے شدہ معاہدوں پر تیزی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔

قازقستان کے صدر اس وقت دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں موجود ہیں۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے دستخطی تقریب بھی منعقد ہوئی، جس کے دوران پیٹرولیم، معدنیات، میری ٹائم امور اور دیگر شعبوں میں مجموعی طور پر 27 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم شہباز شریف نے قازقستان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 23 برس بعد پہلی مرتبہ قازقستان کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دن بھر میں دونوں رہنماؤں کے درمیان نہایت مفید اور نتیجہ خیز ملاقاتیں ہوئیں اور دستخطی تقریب میں مجموعی طور پر 37 مفاہمتی یادداشتیں طے پائیں۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ صدر توکایوف ان مفاہمتی یادداشتوں کو باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل کرنے اور ان پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے، جبکہ پاکستان بھی اپنی جانب سے ان معاہدوں پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر ان مفاہمتی یادداشتوں کو عملی شکل دی گئی تو پاکستان اور قازقستان کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے صدر توکایوف کو ایک سنجیدہ سیاست دان اور تجربہ کار سفارت کار قرار دیا اور انہیں نشانِ پاکستان ملنے پر مبارکباد بھی دی۔ وزیراعظم کے مطابق یہ اعزاز پاکستان کی جانب سے قازقستان کے صدر کی بصیرت افروز قیادت اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ میں کردار کا اعتراف ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کا حوالہ دیتے ہوئے صدر توکایوف کو اس میں شمولیت پر بھی مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ غزہ میں دیرپا امن، تعمیرِ نو اور دو ریاستی حل کو جلد عملی جامہ پہنایا جا سکے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قازقستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور معدنیات، تیل و گیس کی پیداوار اور برآمد میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جبکہ پاکستان بھی قدرتی وسائل، باصلاحیت افرادی قوت اور محنتی عوام کا حامل ملک ہے۔ تاہم انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم صرف 25 کروڑ ڈالر رہا، جو دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور صلاحیتوں کی حقیقی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو ایک سال میں ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے پاکستانی اور قازق کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں، کیونکہ موجودہ سرمایہ کاری کا حجم دونوں ممالک کی صلاحیت کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بیلاروس، روس، قازقستان، ازبکستان، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل ٹرانسپورٹ کوریڈور پر بھی اتفاق ہوا ہے، جس کا مقصد علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان قازقستان کو اپنی ٹرانزٹ انفراسٹرکچر اور بندرگاہی سہولیات تک مکمل رسائی فراہم کرے گا۔

انہوں نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان قازقستان کو وسطی ایشیا میں ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ وزیراعظم نے اعتماد کا اظہار کیا کہ آج کی ملاقاتوں، معاہدوں اور دستخطی تقریب سے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملے گی اور تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر توکایوف نے مستقبل کے تعاون کے لیے ایک واضح اور جامع روڈمیپ پیش کیا ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف نے پاکستان کو جنوبی ایشیا اور خطے میں ایک قابلِ اعتماد اور اہم شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام صدیوں پرانی شاہراہِ ریشم کی روایت، مشترکہ ثقافتی اور روحانی اقدار کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ صدر توکایوف نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کے لیے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس سے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

قازقستان کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور باہمی تعاون کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی کردار، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکنیت اور دفاعی صنعت کی ترقی کو بھی سراہا۔ صدر توکایوف کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی، آئی ٹی، ثقافت اور انسانی تعاون سمیت متعدد شعبوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

صدر توکایوف نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارتی حجم بڑھانے کے لیے ایک ارب ڈالر کا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے اور کاروباری برادری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت، ٹرانس کیسپین ٹرانسپورٹ کوریڈور، افغانستان کے راستے ٹرانزٹ، براہِ راست فضائی روابط کی بحالی، تاپی گیس پائپ لائن، زراعت، دفاعی صنعت، سکیورٹی تعاون، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں اشتراک پر بھی گفتگو کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ قازقستان پاکستان کے سرمایہ کاروں کو سازگار سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور دونوں ممالک کے کاروباری فورم میں 250 سے زائد کمپنیاں تجارتی معاہدوں پر دستخط کریں گی۔ صدر توکایوف نے بتایا کہ ایک ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ اس وقت قازقستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور دونوں ممالک نے تعلیم اور سائنس کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے صدر توکایوف کا سرکاری رہائش گاہ پر استقبال کیا، جہاں انہیں مسلح افواج کے دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ صدر توکایوف منگل کے روز اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے تھے۔ ان کے دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں