‘سیاسی رہنماؤں کے اقدامات کی بنیاد پر کسی کو فٹبال سے نہیں روکنا چاہیے’، فیفا کے صدر کی روسی ٹیم پر عائد پابندی ہٹانے کی حمایت

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے روس پر بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹس میں عائد چار سالہ پابندی ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندی کوئی مثبت نتیجہ دینے میں ناکام رہی ہے اور اس سے صرف مایوسی اور نفرت میں اضافہ ہوا ہے

اسکائی اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے جیانی انفینٹینو کا کہنا تھا کہ روسی کلبوں اور قومی ٹیم پر پابندی سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا، بلکہ اس کے برعکس حالات مزید بگڑے ہیں۔ ان کے مطابق، روسی لڑکے اور لڑکیاں اگر یورپ کے دیگر حصوں میں فٹبال کھیل سکیں تو اس سے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد روسی کلبوں اور قومی فٹبال ٹیم کو فیفا اور یوئیفا کے مقابلوں سے معطل کر دیا گیا تھا۔ اس پابندی کے تحت روس کسی بھی بین الاقوامی فٹبال ایونٹ میں حصہ نہیں لے سکتا۔

فیفا صدر کا کہنا تھا کہ فیفا کو دراصل کبھی بھی کسی ملک کو اس کے سیاسی رہنماؤں کے اقدامات کی بنیاد پر فٹبال کھیلنے سے نہیں روکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں کسی کو تعلقات کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں تاکہ بات چیت اور رابطہ برقرار رہے۔

دوسری جانب یوکرین کے وزیرِ کھیل ماتوی بیڈنی نے جیانی انفینٹینو کے ان بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور بچگانہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات فٹبال کو اس تلخ حقیقت سے الگ کر دیتے ہیں جہاں بچوں کی جانیں جا رہی ہیں۔

ادھر یوئیفا کے صدر الیگزینڈر سیفرین اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ روس کو فٹبال میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے یوکرین میں جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال اپریل میں یوئیفا کانگریس کے اختتامی پریس کانفرنس میں بھی یہی بات دہرائی تھی۔

اسی تناظر میں جیانی انفینٹینو نے فیفا کی جانب سے 2026 ورلڈ کپ کے ڈرا کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن انعام دینے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں امن کے لیے جو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، وہ کیا جانا چاہیے، اور اسی سوچ کے تحت ایسے افراد کی حوصلہ افزائی ضروری ہے جو کسی نہ کسی طرح امن کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں