‘یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی’، پاکستان نے غزہ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کر لی

پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔

بدھ کے روز پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو امریکی صدر کی جانب سے دعوت موصول ہوئی تھی، جس کے جواب میں پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کی حمایت کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اس فریم ورک کے قیام سے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافہ ہوگا اور غزہ کی تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی، جس کے تحت ایک قابلِ اعتماد اور مقررہ مدت پر مشتمل سیاسی عمل کے ذریعے ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست قائم ہو سکے گی۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ریاست 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہوگی اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہوگا۔

پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، تاکہ فلسطینی عوام کی مشکلات اور تکالیف کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن قائم ہو

Author

اپنا تبصرہ لکھیں