پاکستان میں زمینی ریکارڈ کا نظام صدیوں پرانا ہے، لیکن افسوس کہ یہ نظام آج بھی وہی پرانی خرابیاں لیے ہوئے ہے جو برطانوی دور میں تھیں۔ پٹواری، جو اس نظام کی بنیاد ہے، آج بدعنوانی اور کرپشن کی علامت بن چکا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں چیف سیکرٹری پنجاب اور سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سرپرستی میں جو “اصلاحات” کا ڈھونگ رچایا گیا ہے، وہ اصل میں عوام کی زمینوں کو مافیاز کے حوالے کرنے کا ایک منظم منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔
اراضی معاونین کے نام پر جو بھرتیاں کی گئیں، ان میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جن کا زمینی ریکارڈ سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کرمینل زہنیت کے حامل، سفارشی اور نااہل افراد کے ہاتھوں میں لوگوں کی نسلوں کی جمع پونجی کا ریکارڈ تھما دیا گیا۔ یہ وہی افسران ہیں جو بڑی بڑی باتیں تو شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کی کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں انہوں نے ایک نیا کرپشن کا راستہ کھول دیا ہے جہاں پرانے پٹواریوں سے زیادہ خطرناک کھلاڑی میدان میں اتر آئے ہیں۔
صرف لاہور اور قصور کی بات کی جائے تو ابھی تک ہزاروں انتقالات پینڈنگ پڑے ہیں۔ لوگوں نے اپنی زمینیں خریدیں، سرکاری فیس ادا کی، رجسٹری کروائی، لیکن ریکارڈ میں انتقال درج نہیں ہوا۔ اور پھر کیا ہوا؟ زائد بیع کے سکینڈل سامنے آئے! ایک ہی زمین کئی بار بیچ دی گئی۔ لوگوں نے اپنی ساری جمع پونجی لگا کر زمین خریدی، لیکن جب قبضہ لینے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ زمین تو کسی اور کے نام بھی ہو چکی ہے۔
عوام مافیاز کے سامنے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کوئی عدالتوں کے چکر لگا رہا ہے، کوئی تھانوں میں ٹھوکریں کھا رہا ہے، اور کوئی اپنی بچیوں کی شادی کے لیے جوڑا ہوا پیسہ ڈوبتا دیکھ کر خودکشی کی سوچ رہا ہے۔ لیکن افسران کی ناک پر جوں تک نہیں رینگتی۔ چیف سیکرٹری صاحب اپنے ایئر کنڈیشنڈ دفتر میں پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز دیکھ رہے ہیں جہاں گراف دکھائے جا رہے ہیں کہ کتنی “بہتری” آئی ہے، جبکہ سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کسی سیمینار میں “شفافیت” کے لیکچر دے رہے ہیں۔
انتقالات کا بحران صرف ایک مسئلہ نہیں، یہ پورے نظام کی ناکامی کی کہانی ہے۔ حکومت نے باقاعدہ فیس مقرر کی ہوئی ہے جو خریدار اور فروخت کنندہ ادا کرتے ہیں۔ سٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس، اور دیگر سرکاری محصولات ادا کرنے کے باوجود زمین کا انتقال مہینوں، بلکہ سالوں تک درج نہیں ہوتا۔ پٹواری سے لے کر تحصیلدار تک، اراضی معاون سے لے کر ریونیو افسر تک، سب اپنا “حق” مانگتے ہیں۔
یہ ایک کھلا راز ہے کہ انتقال درج کروانے کے لیے الگ سے رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ رقم کی مقدار زمین کی قیمت اور مقام پر منحصر ہوتی ہے۔ شہری علاقوں میں یہ رقم لاکھوں میں ہو سکتی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں بھی ہزاروں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ “اضافی فیس” ادا نہ کی جائے تو فائلیں ادھر سے ادھر گھومتی رہتی ہیں، کبھی کاغذات نامکمل ہوتے ہیں، کبھی دستخط غلط، اور کبھی کوئی اور بہانہ۔ اور جب تک آپ کی فائل “زیرغور” ہے، اسی دوران کوئی زمین فروش مافیا آپ کی زمین دوبارہ کسی اور کو بیچ دیتا ہے۔
پٹواریوں کی بدعنوانیوں کی فہرست تو ویسے بھی طویل ہے۔ فرد جمعبندی نکالنے سے لے کر نقل مکانی تک، ہر کام میں رشوت۔ بہت سے پٹواری جعلی اندراجات کرکے زمینوں پر قبضے کروا دیتے ہیں۔ وراثت کے معاملات میں جائز وارثوں کے نام چھپا کر غلط انتقالات درج کر دیے جاتے ہیں۔ کچھ پٹواری کمرشل زمینوں کو زرعی دکھا کر ٹیکسوں میں ہیرا پھیری کرتے ہیں۔ فصلوں کی گردواری کے دوران بہت سے پٹواری کسانوں سے رشوت لے کر غلط رپورٹنگ کرتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف پٹواری ہی مجرم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پٹواری محض ایک کڑی ہے اس کرپشن کی زنجیر میں۔ ریونیو افسران، تحصیلداران، اور بعض اوقات سیاستدان بھی اس میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ پٹواری جو کچھ وصول کرتا ہے، اس میں سے ایک بڑا حصہ اوپر جاتا ہے۔ “ڈیرے کے اخراجات” کے نام پر باقاعدہ ماہانہ وصولیاں ہوتی ہیں۔ شہری موضعات اور کمرشل علاقوں کی تعیناتیاں باقاعدہ خرید و فروخت ہوتی ہیں۔ جو پٹواری یا اراضی معاون زیادہ “پیداوار” دے سکتا ہے، اسے اچھے سرکل میں رکھا جاتا ہے۔
خاص طور پر کمرشل ایکٹیویٹی والے علاقوں میں تعینات پٹواریوں اور اب اراضی معاونین کی کمائی لاکھوں میں ہے۔ یہ حضرات نہ صرف عوام سے وصولی کرتے ہیں بلکہ اوپر تک حصہ پہنچانے کا بھی انتظام کرتے ہیں۔ سیاستدانوں کی جیبیں گرم ہوتی ہیں، افسران کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور عوام کی زمینیں لٹتی رہتی ہیں۔
یہ سارا نظام ایک منظم لوٹ مار کا ہے جہاں ہر سطح پر حصہ طے شدہ ہے۔ اور جب یہ نظام ڈانواڈول ہونے لگتا ہے تو “اصلاحات” کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے۔ پرانے کھلاڑیوں کو نکال کر نئے بٹھا دیے جاتے ہیں، لیکن کھیل وہی رہتا ہے۔
لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ پٹواریوں کو جتنی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں، اس کے مقابلے میں انہیں نہ تو مناسب تنخواہ ملتی ہے اور نہ ہی کوئی سہولت۔ ایک پٹواری کو اوسطاً 15-20 گاؤں دیکھنے ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی گردواری، اندراجات، اور ریکارڈ کی ذمہ داری اسی پر ہے۔ موسم کی شدت ہو یا سیکورٹی کا خطرہ، پٹواری کو میدان میں جانا پڑتا ہے۔ سرکاری گاڑی نہیں، پٹرول کی سہولت نہیں، دفتر کے لیے مناسب عمارت نہیں۔ الیکشن ڈیوٹی سے لے کر مردم شماری تک، ہر کام میں پٹواری کو لگایا جاتا ہے۔ تنخواہ اتنی کم کہ اخراجات بھی مشکل سے نکلیں۔
اس صورتحال میں بہت سے پٹواری مجبوری میں غلط راستے اختیار کر لیتے ہیں۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے پٹواری اور اب نئے اراضی معاون خالصتاً لالچ اور بدنیتی سے کام کرتے ہیں۔ یہ حضرات کرمینل مافیاز کے ساتھ مل کر عوام کو لوٹتے ہیں اور پھر بیٹھے بیٹھے تماشا دیکھتے ہیں کہ کیسے ایک غریب آدمی عدالتوں کے چکر لگاتا پھرتا ہے۔
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے حال ہی میں کچھ فیصلے کیے ہیں جن سے ریونیو عملے میں بے چینی ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن کے نام پر پٹواریوں کی تضحیک کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض ڈیجیٹل سسٹم لانے سے کرپشن ختم ہو جائے گی؟ جب تک نظام کو چلانے والے وہی کرپٹ افسران ہوں گے، ڈیجیٹل سسٹم بھی کرپٹ ہو جائے گا۔
اصل مسئلہ احتساب کا ہے، شفافیت کا ہے، اور سب سے بڑھ کر سیاسی مداخلت کو ختم کرنے کا ہے۔ جب تک تعیناتیاں اور تبادلے سیاسی بنیادوں پر ہوں گے، جب تک چیف سیکرٹری اور بورڈ آف ریونیو کے افسران صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود رہیں گے، جب تک زائد بیع کے سکینڈلز پر کوئی ذمہ داری نہیں لی جائے گی، اصلاحات نامکمل اور ناکام رہیں گی۔
یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس بوسیدہ نظام کو جڑ سے بدلیں۔ پٹواریوں کی تنخواہیں بڑھائی جائیں، انہیں سہولیات دی جائیں، لیکن ساتھ ہی سخت احتساب کا نظام بھی قائم کیا جائے۔ جو افسران زائد بیع جیسے سکینڈلز کی نگرانی میں ناکام رہے، ان سے جوابدہی لی جائے۔ عوام کی زمینیں کھیل نہیں ہیں کہ سیاستدانوں اور مافیاز کو دے دی جائیں۔ ورنہ عوام کا اعتماد مزید ختم ہوتا چلا جائے گا اور یہ ملک زمینی تنازعات کی بھینٹ چڑھتا رہے گا