ہزاروں کرد شہریوں کو دوبارہ شہریت دی جائے گی”، شامی صدر احمد الشرع کا اعلان

شامی صدر احمد الشراع نے کرد آبادی کو اعتماد میں لینے کے لیے ایک اہم اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کرد زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے، نوروز کو سرکاری تعطیل قرار دینے اور ماضی میں شہریت سے محروم کیے گئے ہزاروں کرد شہریوں کو دوبارہ شہریت دینے کا اعلان کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات کرد برادری کے ساتھ اعتماد سازی کی کوشش کا حصہ ہیں۔

شام کی سرکاری فوج نے صوبہ حلب میں اُن علاقوں کا کنٹرول بھی سنبھالنا شروع کر دیا ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیرانتظام تھے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی قیادت میں اتحادی افواج فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ہفتے کے روز شامی فوج شہر حلب سے تقریباً 50 کلومیٹر مشرق میں واقع دیر حافر میں داخل ہوئی، جب ایس ڈی ایف نے اعلان کیا کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں سے بتدریج انخلا شروع کر رہی ہے۔ شامی فوج کے مطابق شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے اور علاقے کو بارودی سرنگوں اور جنگی باقیات سے پاک کیا جا رہا ہے، جبکہ فورسز قصبہ مسکانہ کی جانب بھی پیش قدمی کر رہی ہیں۔

ایس ڈی ایف کے سربراہ مظلوم عبدی، جنہیں مظلوم کوبانی بھی کہا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ دوست ممالک اور ثالثوں کی درخواست پر ان کی فورسز دریائے فرات کے مشرق کی جانب منتقل ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ قدم 10 مارچ کو ہونے والے اس معاہدے کے تحت اٹھایا گیا ہے جس کے ذریعے کرد انتظامیہ کو شامی ریاست میں ضم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد تاحال تعطل کا شکار ہے۔

شامی فوج کا کہنا ہے کہ انخلا کے دوران ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم جمعے کے روز دیر حافر کے علاقے میں شامی فوج اور کرد فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جس کے بعد شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

شامی حکام کے مطابق کم از کم چار ہزار شہری دیر حافر اور اطراف کے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بعض شہری متبادل راستوں اور عارضی پلوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچے۔ حکومت نے الزام لگایا ہے کہ ایس ڈی ایف نے شہریوں کو نکلنے سے روکا، تاہم کرد فورسز نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی قیادت میں اتحادی افواج نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے مداخلت کی ہے۔ شامی امور کے لیے امریکی ایلچی ٹام بیرک نے کہا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔ کرد فورسز کے ترجمان فرہاد شامی کے مطابق اتحادی وفد نے دیر حافر میں ایس ڈی ایف قیادت سے ملاقات کی، جس کے بعد شامی وزارتِ دفاع کا ایک وفد بھی مذاکرات کے لیے علاقے میں داخل ہوا۔

گزشتہ دنوں شامی افواج اور ایس ڈی ایف کے درمیان جھڑپوں کے باعث کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں