‘ان اختلافات کے نتیجے میں یہ امارت چلی جائے گی’، یہ افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی مبینہ طور پر لیک ہونے والی ایک آڈیو میں کہے گئے الفاظ ہیں، جن کی بنیاد پر بی بی سی پشتو نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کی صفوں میں اختلاف شدت اختیار کر گیا ہے اور اسی معاملے نے سپریم لیڈر کو پریشان کیے رکھا ہے۔
بی بی سی پشتو کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے اندرونی حلقوں میں دو بنیادی گروپس پائے جاتے ہیں، جن میں ایک قندہاری اور دوسرا کابل گروپ ہے۔ قندہاری گروپ کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ سخت گیر ہے جبکہ دوسرا فیصلوں کے نفاذ میں نرمی کا قائل ہے۔
افغان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں ایسے کسی بھی قسم کے معاملے کی سختی سے تردید کی ہے۔ تاہم اختلاف کی یہ خبریں کوئی پہلی بار سامنے نہیں آئیں۔ اس سے پہلے بھی مارچ 2025 میں افغان انٹرنیشنل نامی ادارے نے اپنی ایک خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے ۔ پاکستان کے چند میڈیا اداروں نے بھی اس بارے میں کئی خبریں شائع کی تھیں۔
البتہ اگلے ہی روز افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی طویل وقفے کے بعد خوست کی ایک مسجد میں بعد از نمازِ جمعہ منظرعام پر آئے، جہاں بڑی تعداد میں افراد نے ان کا خیر مقدم کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز میں انہیں مصافحہ کرتے اور عوام کے ساتھ گلے ملتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ترجمان امارت اسلامیہ ذبیح اللہ مجاہد نے استعفیٰ سے متعلق ان خبروں پر تاشقند اردو کے ایک سوال کے جواب میں اس وقت کہا تھا کہ “یہ مسئلہ ابھی پوری طرح واضح نہیں، اس لیے وہ کچھ کہہ نہیں سکتے”۔ ذبیح اللہ مجاہد کا جواب کسی مسئلے کی جانب اشارہ تو ظاہر کر رہا تھا، لیکن وہ اس پر کھل کر بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔
ان خبروں کی بعد میں سرکاری سطح پر تردید تو کی گئی، لیکن اس کی وجہ بنیادی طور پر سراج الدین حقانی کی اپنے دفتر سے طویل عرصے تک غیر حاضری تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سراج الدین حقانی کو جب 23 جنوری سے 3 فروری تک سعودی عرب سفر کرنے کی اجازت دی تھی تو وہ سعودی عرب کے بعد مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات میں مقیم رہے، اور اس کے بعد 15 مارچ کو منظر عام پر آئے۔
اس کے علاوہ نائب وزیر خارجہ شیر عباس ستانکزئی اور نائب وزیر اعظم برائے معاشی امور ملا عبدالغنی کے بارے میں بھی کہا جا رہا تھا کہ وہ قندہار گروپ کے فیصلوں سے مطمئن نہیں ہیں اور اسی وجہ سے ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملا عبدالغنی برادر کے حوالے سے اڑنے والی یہ افواہیں درست نہیں تھیں، کیونکہ وہ اس وقت افغانستان میں ہی موجود تھے اور مختلف منصوبوں کا افتتاح کر رہے تھے، جبکہ سراج الدین حقانی اور عباس ستانکزئی چند ماہ یو اے ای میں مقیم رہے۔
مرکزی قیادت یا سپریم لیڈر کے ساتھ ان طالبان رہنماؤں کا اختلاف پالیسیوں میں سختی اور خواتین کی تعلیم پر پابندی سے جڑا ہوا ہے، اور اس اختلاف کا اظہار بھی مختلف مواقع پر ان رہنماؤں کی جانب سے کیا جا چکا ہے۔ فروری 2023 میں وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے خوست میں ایک اجتماع سے خطاب میں کہا تھا کہ ایسی پالیسیوں کو ترک کیا جائے جو حکومت اور عوام کے درمیان خلیج کا سبب بن رہی ہیں، جبکہ حالیہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے خوف کے ذریعے حکومت نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ترجمان امارتِ اسلامیہ ذبیح اللہ مجاہد نے فروری 2023 میں سراج الدین حقانی کے بیان کے جواب میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ “اسلامی اقدار ہمیں پابند کرتی ہیں کہ ہم عوامی اجتماعات میں اپنے امیر پر تنقید یا انہیں بدنام نہ کریں، بلکہ ان سے براہِ راست رابطہ کریں۔”
دوسری جانب شیر عباس ستانکزئی بھی مرکزی قیادت کی تعلیمی پالیسیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ ان کی ایک آڈیو بھی سامنے آئی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “رہنما کی پیروی اس حد تک نہیں کرنی چاہیے کہ اسے نبوت کا درجہ حاصل ہو جائے۔”
واضح رہے کہ افغانستان میں عبوری طور پر حکمرانی کرنے والے ان طالبان رہنماؤں کے اندرونی حلقوں میں یہ اختلافات کوئی آج، کل یا چند برسوں کی بات نہیں، بلکہ دو ہزار تین سے مختلف شکلوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔
نائن الیون کے بعد جب امریکی حملوں کی وجہ سے 1996 میں قائم ہونے والی امارتِ اسلامیہ کی پہلی حکومت ختم ہوئی تو افغان طالبان رہنماؤں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لی۔ اس وقت سنٹرل کمانڈ اتھارٹی کی غیر موجودگی میں افغان طالبان انفرادی طور پر مختلف گروپوں کی صورت میں لڑتے تھے، جنہیں محاذ کہا جاتا تھا۔
دو ہزار تین میں ملا عمر نے سرکردہ افغان طالبان رہنماؤں پر مشتمل کوئٹہ شوریٰ قائم کی، جس نے ان تمام محاذوں پر مشتمل سنٹرل کمانڈ اتھارٹی کی حیثیت سے ایک متبادل حکومت قائم کی، لیکن اسی دوران افغان جہاد کے اہم رہنما جلال الدین حقانی نے وزیرستان میں میران شاہ شوریٰ بھی قائم کی تھی۔
کوئٹہ شوریٰ اور میران شاہ شوریٰ کے درمیان اس وقت سے وسائل کی تقسیم، ذرائع آمدن اور انتظامی امور پر اختلافات پائے جاتے تھے۔ تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے کہ افغان طالبان نے آج تک ان اختلافات سے کسی تیسرے فریق کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا، جبکہ ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ان کے درمیان مختلف نقطۂ نظر کے حامل افراد موجود ہیں، جو اپنی اپنی رائے کی بنیاد پر اختلاف رکھتے ہیں، جسے امارت کے لیے خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
بی بی سی رپورٹ میں ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی آڈیو کی تاریخ جنوری 2025 درج کی گئی ہے۔ یہ وہی مہینہ ہے جس میں کابل گروپ سے وابستہ ان تمام رہنماؤں کی افغانستان چھوڑنے اور اختلاف کی خبریں وائرل ہوئی تھیں۔ تاہم مارچ 2025 سے یہ تمام رہنما افغانستان میں اپنی اپنی ذمہ داریوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ بیرونی حملوں سمیت کئی اہم مسائل پر مرکزی قیادت کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔