ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف اپنی سرزمین اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہ دینے کے مؤقف پر بدستور قائم ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے اپنے ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں ایران کی موجودہ صورتحال پر بات چیت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ متوازن اور ہموار تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے اور ایران کے ساتھ تجارت عالمی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان تجارت کے معاملے پر ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور تمام تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو رہی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ ایران اپنی دانش، بصیرت، قدیم تہذیب اور قومی جذبے کے ذریعے موجودہ حالات پر قابو پا لے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے ماضی میں ایران کے جوہری مذاکرات میں بھی اپنا کردار ادا کیا تھا۔ ترجمان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان
ماضی کی طرح آج بھی ایران کے خلاف اپنی سرزمین اور فضائی حدود استعمال نہ ہونے دینے کے مؤقف پر قائم ہے۔
افغانستان میں طلبہ کی واپسی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانہ اس معاملے پر کام کر رہا ہے اور صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایران میں پھنسے ہوئے طلبہ کی بڑی تعداد گوادر پہنچ چکی ہے اور حکومت پاکستان ایران سے واپس آنے والے طلبہ کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی طلبہ کی واپسی میں معاونت کی۔
ترجمان کے مطابق اندازاً بدھ کے روز 54 طلبہ ایران سے واپس پہنچے جبکہ اس سے قبل بھی دو درجن کے قریب طلبہ وطن واپس آ چکے ہیں۔ آئندہ دنوں میں مزید طلبہ کی واپسی سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں گی