شکر پڑیاں میں درختوں کی کٹائی پر اب پارلیمان میں بھی احتجاج ہو رہا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شکر پڑیاں میں جنگلات کی یہ کٹائی تو کچھ بھی نہیں ۔ یہ اصل تباہی اور بربادی کا ایک فی صد بھی نہیں ۔ شکر پڑیاں کے حقائق درختوں کے اس تازہ کٹاؤ سے کئی گنا زیادہ خوف ناک ہیں ۔ دکھ یہ ہے کہ کسی کو نہ ان کا کچھ علم ہے نہ کوئی ان پر احتجاج کر رہا ہے۔
آئیے آج ان حقائق پر بات کرتے ہیں ۔ لیکن اس سے پہلے ذرا ایک بنیادی نکتہ سمجھ لیجیے ۔
شکر پڑیاں کا سارا جنگل بھی مارگلہ نیشنل پارک کا حصہ ہے ۔ یہ جنگل ایک تکون میں ہے۔ ایک طرف فیض آباد ہے۔ دوسری جانب زیرو پوائنٹ اور تیسرا کونہ کنونشن سنٹر سے جا ملتا ہے۔ وائلڈ لائف پروٹیکشن آرڈی ننس نامی جس قانون کے تحت اس علاقے کو نیشنل پارک قرار دیا گیا ہےا س کے مطابق یہاں کوئی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف جانوروں کی پناہ گاہ ہے اور رہائش ہے۔ یہاں انسانوں کا داخلہ مشروط ہے۔ انسان یہاں صرف تین مقاصد کے لیے داخل ہو سکتے ہیں: اول تعلیم ، تفریح اور تحقیق۔
راولپنڈی سے مری روڈ کے ذریعے اسلام آباد میں داخل ہوں تو بائیں ہاتھ پر شکر پڑیاں کا جنگل ہے۔ جنگل شروع ہوتے ہی اسلام آباد ٹریفک پولیس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ آفرین ہے کہ یہ ہیڈ کوارٹر ہی ناجائز ہے ۔ یہ نیشنل پارک کی زمین پر اسلام آباد ٹریفک پولیس کا ناجائز قبضہ ہےا ور ناجائز تعمیر ہے۔ یہ پولیس دوسروں کے چالان کرتی پھرتی ہے لیکن خود اس کا حال یہ ہے کہ دارالحکومت میں اس کا ہیڈ کوارٹر ہی غیر قانونی ہے۔

اس سے چند قدم آگے این ڈی ایم اے یعنی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا بہت بڑا دفتر ہے۔ یہ بھی نیشنل پارک میں ہے اور یہ بھی ناجائز اور غیر قانونی ہے۔ اس نے ڈیزاسٹر کی مینجمنٹ کیا کرنی ہے ، یہ نیشنل پارک کے لیے خود ایک ڈیزاسٹر بن چکا ہے۔
شکر پڑیاں میں جتنے علاقے میں اس وقت جنگل کاٹا گیا ہے اس کو کم از کم 20 سے ضرب دیں تو اتنا علاقہ ان دو دفاتر کے ناجائز قبضے میں ہے۔ کوئی ہے جو تخمینہ لگائے کہ یہاں کتنے درخت کٹے ہوں گے؟
اس سے آگے جائیں تو ہوٹلوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ کوئی نہیں جانتا ان کو یہ زمین کب ، کس نے اور کیوں الاٹ کی۔ کس کو یہ ختیار تھا کہ وہ نیشنل پارک کی یہ زمین ہوٹلوں کو الاٹ کر دیتا۔ یہ سارے کے سارے ہوٹل نیشنل پارک کی زمین پر پیں اور ناجائز ہیں۔ یہیں ان سے پہلے ایک قدیمی مسجد ہوا کرتی تھی۔ اس کو ناجائز قرار دے کر شہید کر دیا باقی سب کچھ ویسے کا ویسا ہی کھڑا ہے ادھر کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔
ہوٹلوں کا سلسلہ جب ختم ہوتا ہے تو اسلام آباد کلب شروع ہو جاتا ہے۔ یہ بھی نیشنل پارک کی زمین پر ہے اور اسلام آباد کی اشرافیہ کے لیے کوڑیوں کے بھاو لیز پر جگہ دی گئی ہے۔ یہاں چونکہ بعض صحافیوں کو بھی ممبر شپ ملی ہوئی ہے اس لیے جب کوئی سوال اٹھاتا ہے تو وہ بھی دوسروں کو حد ادب سکھاتے ہیں کہ نالائق اسلام آباد کلب کے خلاف بات نہ کرو۔ شکر پڑیاں میں اس وقت جتنا جنگل کاٹا گیا ہے اس کو کم از کم 50 سے ضرب دیں تو نیشنل پارک کے اتنے علاقے پر اسلام آباد کلب قائم ہے۔
یہی حال اندر کی گنز اینڈ کنٹری کلب کا ہے۔ یہ کلب بھی کوڑیں کے بھاو زمین لیز پر دے کر بنوایا گیا ہے۔ یہ بھی نیشنل پارک کی زمین پر ہے۔
آگے چلیے ، آگے کیبینٹ ڈویژن کے دفاتر ہیں ۔ دفاتر ہی نہی ، ایک مکمل رہائشی کالونی وجود میں آ چکی ہے۔ یہ بھی نیشنل پارک کا حصہ ہے ۔ یہ بھی اس قانون کی خلاف ورزی ہے جس میں اس علاقے کو نیشنل پارک قرار دیا گیا ہے۔
آگے چلے جائیے ۔ ٹی کے آر نام کا ایک ہوٹل شکرپڑیاں کے عین اوپر واقع ہے۔ جنگل میں اندر ہی اندر پھیلتا جا رہا ہے۔ یہ بھی ناجائز اور غیر قانونی ہے۔
قریب آدھا جنگل ان کے قبضے میں آ چکا ہے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ ان پر کبھی کوئی بات نہیں کرتا ۔ حتی کہ یہاں کبھی وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے رینجرز بھی نظر نہیں آئے۔ وائلڈ لائف کا دفتر بھی مارگلہ کی پہاڑیوں کی دہلیز پر ڈائنو پارک میں ہے۔ شکر پڑیاں میں نہ کہیں اس کا کوئی کیمپ آفس ہے نہ ہی کبھی یہاں اس کے عملے کا کوئی رکن نظر آیا
۔
یعنی پارلیمان نے نیشنل پارک کے تحفظ کے لیے جو ادارہ بنایا اس ادارے کو یا تو معلوم ہی نہیں کہ صرف مارگلہ کی پہاڑیاں ہی نہیں شکر پڑیاں بھی نیشنل پارک کا حصہ ہے یا پھر اس نے زبان حال سے اعلان کر رکھا ہے کہ ہم تو صرف مارگلہ کی پہاڑیوں تک محدود ہیں شکر پڑیاں کا ستیا ناس ہو یا سوا ستیا ناس ہماری بلا سے۔
ایک اور تباہی بھی یہاں ہونے والی تھی ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2008 میں کرکٹ سٹیڈیم کے لیے 48 ایکڑ جگہ مانگی اور سی ڈی اے نے کمال بے نیازی سے شکر پڑیاں میں یہ جگہ الاٹ کر دی ۔ بھلا ہو جناب روئیداد خان صاحب کا جو سپریم کورٹ چلے گئے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے حکم دے دیا کہ نیشنل پارک میں سٹیڈیم نہیں بن سکتا۔ لیکن سی ڈی اے کے کنکریٹ زدہ بابو صاحبان سے کسی نے نہ پوچھا کہ تم نے نیشنل پارک کی زمین پر سٹیڈیم بنانے کی منظوری کیسے دے دی۔
قدیم زمانوں کے شکر پڑیاں کے اصل مکین راجہ اللہ داد خان کی حویلی کے پاس جہاں کسی زمانے میں کنول جھیل ہوتی تھی ، وہ سارا جنگل کاٹ دیا گیا ہے۔ جو درخت بچ گئے تھے وہ کنول جھیل بحالی کے نام پر کاٹ دیے گئے ۔ جتنے درختوں کے کٹنے پرر اب شورر مچا ہے اس سے زیادہ درخت اس جھیل کی بحالی کے نام پر برباد کیے گئے اور وہ جنگلی توت کے درخت بھی نہیں تھے۔
سالوں نہیں ، عشرے بیت گئے میں اس برباددی پر چیختا اور کڑھتا رہا۔ اب کی بار سارا شہر آواز اٹھا رہا ہےا ور احتجاج کر رہا ہے۔ لیکن شہر کو معلوم ہی نہیں کہ بات صرف ان درختوں کی نہیں جو ان دنوں میں کاٹے گئے۔ نیشنل پارک کی تباہی کا عمل عشروں سے جاری ہے اور مسلسل جاری ہے۔
لوک ورثے کے سامنے کاٹے گئے جنگل کے مقام پر تو احتجاج کے بعد درخت لگا دیے گئے اور وزیر ماحولیات مصدق ملک رپورٹرز کو ساتھ لے کر پہنچ گئے ، سوال یہ ہے وہ ٹریفک پولیس کے غیر قانونی ہیڈکوارٹر کب جائیں گے؟ این ڈی ایم اے کب جائیں گے؟ اسلام آباد کلب اور ٹی کے آر وغیرہ کا معائنہ کرنے کب تشریف لے جائیں گے؟
جائیں گے بھی یا اس کے تصور سے ہی ماحولیات کے فرہاد کا زہرہ آب ہو جائے گا؟