بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے رکن کے قابل اعتراض بیانات پر ڈسپلنری کارروائی کا آغاز

بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے حال ہی میں اپنے ایک رکن کے قابل اعتراض بیانات کے بعد فوری طور پر ڈسپلنری کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ بورڈ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ یہ بیانات کرکٹ کے وقار اور بورڈ کے اصولوں کے خلاف ہیں، جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ رکن کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اور 48 گھنٹوں کے اندر تحریری جواب طلب کیا گیا ہے۔

بی سی بی نے واضح کیا ہے کہ معاملے کی پوری تحقیق کی جائے گی اور ڈسپلنری کارروائی کا عمل مکمل کر کے کسی بھی ممکنہ بد انتظامی یا غیر پیشہ ورانہ رویے کی روک تھام کی جائے گی۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹ کے معیار اور قوانین کے مطابق فیصلہ کرے گا تاکہ بورڈ کی شبیہ اور کھیل کی ساکھ محفوظ رہے۔

اس واقعے کے بعد بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) بھی زیرِ بحث آ گئی ہے، جو فائنل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور نہ صرف بنگلادیش کرکٹ بلکہ ملکی اور غیر ملکی شائقین کے لیے بھی ایک اہم موقع ہے۔ بورڈ نے امید ظاہر کی ہے کہ تمام کھلاڑی پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کریں گے اور لیگ کی کامیاب تکمیل میں بھرپور تعاون کریں گے تاکہ شائقین کی توقعات پر پورا اتر سکے۔

واضح رہے کہ بنگلادیشی کرکٹرز نے حال ہی میں بورڈ کے ڈائریکٹر نظم الاسلام کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ کرکٹرز نے خبردار کیا کہ اگر یہ استعفیٰ نہ دیا گیا تو وہ کرکٹ سرگرمیوں کا بائیکاٹ بھی کر سکتے ہیں۔ اس بائیکاٹ کے امکان نے بی پی ایل کے شیڈول اور ٹیموں کی تیاری پر خدشات پیدا کر دیے ہیں

Author

اپنا تبصرہ لکھیں