ازبکستان اور تاجکستان نے چین تک بین الاقوامی کارگو ترسیل کے لیے ایک پائلٹ منصوبے کا آغاز کر دیا ہے، جسے علاقائی تجارتی تعاون کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت 10 مکمل طور پر لوڈڈ ٹرکوں کا قافلہ ازبکستان سے روانہ ہو کر تاجکستان کے راستے چین پہنچے گا۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے وزرائے ٹرانسپورٹ الہام محکموف اور عظیم ابراہیم کے درمیان مذاکرات کے دوران کیا گیا۔
حکام کے مطابق ایک نئے کثیرالملکی ٹرانسپورٹ کوریڈور پر بھی کام جاری ہے جو چین، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، ایران، ترکی اور یورپ کو آپس میں جوڑے گا، جبکہ بین الاقوامی کارگو کے لیے الیکٹرانک اجازت نامے بھی متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس کوریڈور کو مؤثر بنانے کے لیے سمرقند کے ضلع اُرگُت میں واقع جارتیپا-سرزم سرحدی کراسنگ کو وسعت دی جا رہی ہے، جہاں ایک نیا لاجسٹکس سینٹر قائم کیا جائے گا جو روزانہ 100 ٹرکوں کو سروس فراہم کر سکے گا۔ اس کے ساتھ ایک طبی تشخیصی مرکز اور کاروباری افراد کے لیے شاپنگ کمپلیکس بھی بنایا جائے گا۔
منصوبے کے تحت تاجک شہریوں کو بغیر پاسپورٹ کنٹرول اور اضافی دستاویزات کے ساتھ تجارتی اور طبی سہولیات حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ علاوہ ازیں، سرحد پار تجارت کو مزید آسان بنانے کے لیے بین الاقوامی ٹرانسپورٹ اجازت ناموں کی تعداد بڑھانے اور انہیں ڈیجیٹل شکل دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ دراصل 2022 میں دوشنبے میں ہونے والی انٹرنیشنل لاجسٹکس ڈویلپمنٹ کانفرنس میں پیش کیے گئے کوریڈور کے تصور کا عملی تسلسل ہے، جس کا مقصد وسطی ایشیا اور اس سے آگے تجارتی روابط اور ترسیلی نظام کو مزید بہتر بنانا ہے۔