واشنگٹن میں افغان شہری کی جانب سے نیشنل گارڈز پر ہونے والے حملے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے سخت نوعیت کا فیصلہ کرتے ہوئے امیگریشن پالیسی میں اہم تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔ اس نئے حکم کے تحت اب افغانستان سمیت انیس ممالک کے افراد کے لیے امریکا میں امیگریشن کا عمل غیر معینہ مدت تک روک دیا گیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز مطابق جن ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان میں افغانستان کے علاوہ ایران، صومالیہ، لیبیا، یمن اور سوڈان جیسے ممالک شامل ہیں۔ اس فیصلے کا اطلاق نہ صرف نئے درخواست گزاروں پر ہوگا بلکہ ایسے افراد پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے جنہیں پہلے سے گرین کارڈ جاری کیا جا چکا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت ان منظور شدہ گرین کارڈز کا بھی دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔ اس عمل میں شہریت، ویزا کی توسیع، ورک پرمٹ اور دیگر امیگریشن کیسز بھی شامل کیے گئے ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر نئے اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے گا۔
امریکی اخبار کے مطابق حکام مزید چھتیس ممالک کو بھی اسی فہرست میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس کے بعد امیگریشن پالیسی میں مزید سختیاں متوقع ہیں۔ اس فیصلے نے امریکا آنے کے خواہشمند ہزاروں افراد میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔