نیشنل گارڈز پر حملہ؛ زیر حراست مشتبہ شخص کا تعلق افغانستان سے ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشتبہ حملہ آور افغانستان سے آیا تھا، اور وہ سابق صدر جو بائیڈن کے منظور کردہ ایک قانون کے تحت امریکہ آیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، اب بائیڈن انتظامیہ کے دور میں افغانستان سے امریکہ منتقل ہونے والے تمام افراد کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ حملہ وائٹ ہاؤس سے چند قدم کے فاصلے پر پیش آیا، جہاں نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں کو انتہائی قریب سے یعنی ‘پوائنٹ بلینک رینج’ ،پر گولی مار دی گئی۔ حکام کے مطابق، بدھ کے روز ہونے والے اس واقعے میں زخمی ہونے والے دونوں اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو انتہائی سفاک اور بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ برائی پر مبنی ایک دہشت گردانہ اور نفرت آمیز کارروائی ہے۔ ان کے مطابق، یہ صرف امریکی قوم کے خلاف نہیں بلکہ پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور صدر وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں کہ جس شخص نے یہ ظلم کیا ہے، اسے اس کے سنگین انجام تک پہنچایا جائے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے پاس موجود معلومات کے مطابق، زیر حراست مشتبہ شخص افغانستان سے آیا تھا اور اسے 2021 میں بائیڈن انتظامیہ امریکہ لے کر آئی تھی۔ ان کے مطابق، مشتبہ حملہ آور اُن فلائٹس کے ذریعے ملک میں داخل ہوا تھا جن کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ان میں کون لوگ سوار تھے، اور بعد میں صدر بائیڈن کے منظور کردہ ایک قانون کی وجہ سے اس شخص کے قانونی اسٹیٹس میں توسیع کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس بڑے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے جس کا سامنا اس وقت امریکہ کو ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سابقہ امریکی انتظامیہ نے بغیر کسی جانچ پڑتال کے دو کروڑ سے زائد غیر ملکیوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بائیڈن دور میں آنے والے تمام افراد کی دوبارہ سکریننگ کی جائے گی۔

اپنے بیان کے آخر میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو اُن تمام غیر ملکیوں کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے جن کا اس ملک سے کوئی تعلق نہیں یا جن سے ریاست کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ان کے بقول،اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتے تو ہمیں وہ نہیں چاہیے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں