امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان طے پانے والا تجارتی اور سیکیورٹی معاہدہ سب میرین کے معاملے پر اختلافات کے باعث ابھی تک حتمی شکل نہیں لے سکا۔ دو ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے ملاقات کے دوران ٹیکس اور سیکیورٹی کے معاملات حل کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اب تک کوئی باقاعدہ معاہدہ شائع نہیں ہوا۔
جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق سب میرین کے حوالے سے واشنگٹن کی منظوری اور تکنیکی پہلوؤں پر بحث ابھی جاری ہے۔ اگرچہ امریکا نے جنوبی کوریا کو نیوکلیئر فیول استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، معاہدے کی تفصیلات کے لیے متعلقہ امریکی ادارے ابھی بھی اپنے فیڈبیک دے رہے ہیں اور دستاویز کی عبارت میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ نیوکلیئر سب میرین امریکا کے شپ یارڈ میں تیار کی جائے گی، جب کہ جنوبی کوریا چاہتا ہے کہ اسے اپنے ملک میں بنایا جائے۔ اس اختلاف کی وجہ سے تکنیکی معلومات کی منتقلی کے بارے میں سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر اصولی طور پر اتفاق ہو چکا ہے، لیکن سرمایہ کاری کے فنڈ کے ڈھانچے پر اختلافات کے باعث مشترکہ بیان جاری نہیں ہو سکا۔ اس تاخیر کے نتیجے میں جنوبی کوریا کی بڑی کار کمپنی ہنڈائی کی امریکی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں اور اسے ہر ماہ اربوں وون کا نقصان ہو رہا ہے۔
تجارتی وزارت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ٹیکس کے معاملات پر مسودہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور جب مشترکہ فیکٹس شیٹ تیار ہو جائے گی تو اسے عوام کے لیے جاری کر دیا جائے گا۔ مذاکرات کے حتمی مراحل میں داخل ہونے کے باوجود ابھی تک کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔