“ہمارا مقصد نفرتوں کا خاتمہ ہے” ، طورخم سرحد پر افغان مہاجرین کی خدمت میں مصروف پاکستانی

9 اکتوبر کو اسلام آباد اور کابل کے درمیان سخت سرحدی جھڑپوں کے بعد پاکستان میں افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل اپنی تاریخ کے تیز ترین مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ 2023 کے اواخر میں شروع ہونے والے تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد اس وقت شدت اختیار کر گیا جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جنگ میں 23 پاکستانی فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان کی جانب بھی پچاس کے قریب افراد جان سے گئے جبکہ چار سو سے زائد زخمی ہوئے۔ جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے باوجود پاک افغان سرحدی گزرگاہیں 12 اکتوبر سے تمام قسم کی آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔ البتہ، گزشتہ دنوں طور خم اور چمن جیسی اہم گزرگاہوں کو پاکستان کی جانب سے افغان خاندانوں کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا، جو سرحد کے قریب مختلف مقامات پر واپسی کے منتظر تھے۔

جمعرات کے روز استنبول میں تیسرے مذاکراتی دور کے آغاز کے ساتھ ہی بلوچستان کے چمن-بولدک سرحدی گزرگاہ پر دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان دس منٹ تک جھڑپیں بھی ہوئیں، جن کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ البتہ اطراف میں موجود افغان مہاجرین کے خاندانوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو صارفین کی جانب سے سرحد پر جنگی صورتحال کے دوران افغان خاندانوں کی موجودگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

دوسری جانب افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان میں غیر ذمہ دارانہ رویوں کی اطلاعات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔ تاہم صوبہ خیبر کے اسلام آفریدی، قاری نظیم گل اور شاکر آفریدی جیسے سماجی کارکنان مہاجرین کا حوصلہ بنتے ہیں اور آخری لمحوں میں ان کے ذہنوں میں پاکستان کا مثبت نقش چھوڑ جاتے ہیں۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے شاکر آفریدی کا شمار نقل و حمل کے شعبے سے وابستہ ان افراد میں ہوتا ہے جو گزشتہ نو سالوں سے رنگ روڈ ٹول پلازہ سے لے کر طور خم سرحدی گزرگاہ تک ’ماں ویلفیئر‘ کے نام سے سماجی خدمت کا کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ “بیمار بچوں اور عورتوں کی وجہ سے افغان مہاجرین کافی مشکلات کا شکار رہے۔ یہاں ہر کسی نے حتی الامکان اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ اس سرزمین پر اپنی پچاس سالہ تاریخ کو سمیٹتے ہوئے اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرتے ہوئے مہاجرین کے چہروں سے اداسی ظاہر ہو رہی تھی لیکن آخری لمحوں میں تھوڑی بہت خدمت کے عوض ان کے دلوں میں محبت بھی تازہ ہوئی۔”

شاکر آفریدی نے اس مشکل وقت میں مہاجرین کے لیے کھانے پینے اور ادویات کا انتظام کیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ “ریاستوں کے اکثریتی معاملات میں عوام بے بس ہوتی ہے۔ مہاجرین بھی دونوں طرف اپنی محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اٹک سے آنے والے ایک خاندان کو دلاسہ دیتے وقت ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، لیکن میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کی واپسی سے افغانستان اپنے پیروں پر مضبوطی کے ساتھ دوبارہ کھڑا ہوگا۔”

شاکر آفریدی نے دھیمے لہجے میں التجا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ “دونوں طرف بہت زیادہ خون بہہ گیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں مختار لوگوں سے گزارش ہے کہ مزید خون نہ بہایا جائے تاکہ یہ قوم سکھ اور خوشحالی کی سانسیں لے سکے۔”

شنواری قبیلے سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور سماجی رہنما قاری نظیم گل بھی طورخم سرحد پر غیر یقینی صورتحال کے دوران خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ انہوں نے تاشقند اردو سے گفتگو میں کہا کہ “گزشتہ چند سالوں سے اچانک سرحد کی بندش سے کئی شعبوں سے وابستہ افراد شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ہمارے مسافر بھائی سرحد کے اس پار افغانستان میں در در ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔”

قاری نظیم گل بھی سرحد کی بندش کے اس عرصے میں پناہ گزینوں اور مسافروں میں ادویات، لباس اور کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “ہماری خدمت کا مقصد محض دونوں ممالک کے درمیان پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور نفرتوں کا خاتمہ ہے۔” پنجاب پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “پناہ گزینوں کے ساتھ برتاؤ میں انسانیت کو خاطر میں لانا چاہیے۔ دورانِ سفر ان افراد کو ضروریاتِ زندگی کے پیش نظر سہولتیں فراہم کی جائیں۔”

اس باب میں قاری نظیم اور شاکر آفریدی اکیلے نہیں، بلکہ کئی مخیر افراد اور سماجی کارکنان افغان پناہ گزینوں کو مثبت انداز میں آئے روز الوداع کہتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ محبت کا آخری پیغام لے کر اپنے وطن واپس لوٹ جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ تقریباً 20 دن کی بندش کے بعد طورخم سرحد کو ہفتہ کے روز دوبارہ کھول دیا گیا تھا، تاہم سرحد پار کرنے کی اجازت صرف افغان خاندانوں کی واپسی کے لیے دی گئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ پاکستان طاہر اندرابی نے جمعہ کے روز میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ’ سیکیورٹی صورتحال خراب رہنے تک افغانستان کے ساتھ بارڈرز بند رہیں گے اور سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھ کر بارڈرز سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔’

Author

اپنا تبصرہ لکھیں