ربیع الاوّل کا اصل سبق

اس واقعے کو کئی سال بیت گئے، مگر یہ اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ دل ودماغ پر نقش ہے۔ زندگی میں آپ بعض سبق ایسے حاصل کرتے ہیں جن کے سائے میں پھر تمام عمر بیت جاتی ہے۔ خاکسار کو اپنی نالائقی، سستی اور غیر عملی ہونے کا اعتراف ہے، جیسا کرنا چاہیے تھا ویسے نہیں کر پائے، تاہم یہ ضرور سیکھا کہ اپنے بچوں اور نئی نسل میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو راسخ کرانے کی ہے۔ انہیں اچھی طرح یہ بتانا، سمجھانا اور ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے کہ اپنی زندگی میں کون سا رول ماڈل بناو،کون سے سنہری اصول اور مشکبار روز وشب ایسے ہیں جنہیں پوری سنجیدگی سے فالو کرنے، اپنانے اور کاپی کرنے کی ضرورت ہے۔

اب اس واقعے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کے بارے میں کئی بار میں نے گفتگو کی، ایک آدھ بار لکھا بھی، مگر لگتا ہے کہ بہت زیادہ بات کرنی چاہیے۔ آج کل ربیع الاول کے خوبصورت دن گزرر ہے ہیں، ان ایام میں اس واقعے، اس سبق کی اہمیت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

سید صاحب کی محفل میں کئی بارحاضرہوا تھا،مگر اس دن کچھ اور ہی بہار تھی۔کمرے میں داخل ہوتے ہی لوبان و بخور کی خوشگوار مہک سے واسطہ پڑا۔ سفید دودھیا چاندنی کا فرش بچھا تھا۔ سید صاحب حسب معمول دیوار کے ساتھ گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ فرق صرف یہ کہ آج ان کا مخصوص حقہ غائب تھا۔خیر خاموشی سے ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے۔ ساتھ بیٹھے صاحب سے پوچھا کہ آج اہتمام کچھ خاص لگ رہا ہے۔ جواب ملا،ربیع الاول کا چاند نظر آچکا ہے۔آج کی محفل میں موضوع سیرت طیبہ ﷺ ہے۔سید صاحب ہر سال صرف اسی محفل کے لئے خاص اہتمام کرتے ہیں۔

سیرت ﷺکے موضوع پر گفتگو جاری تھی۔اچانک ایک نوجوان کمرے میں داخل ہوا۔ چوبیس پچیس سال عمر،چہرے سے سنجیدگی،آنکھوں سے ذہانت ٹپکتی تھی۔ وہ سید صاحب کے سامنے جا کر بیٹھے اور بولے،میں نے آپ کی تعریف سنی ہے،آج آپ سے بیعت کرنے حاضر ہوا ہوں۔‘‘ چند لمحوں کے لئے خاموشی چھا گئی،سب جانتے تھے کہ سید کسی کو مرید کرنے کے قائل ہیں نہ ہی وہ خود کو پیر سمجھتے ہیں۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ میں طالب علم ہوں اور طالب علموں کے ساتھ ہی صحبت رکھنے کا قائل ہوں۔ سید صاحب نے قدرے توقف کیا۔ نوجوان نے اپنی بات دہرائی تو انہوں نے نظریں اٹھائیں اور دریافت کیا،’’میاں صاحبزادے!آپ بیعت کیوں کرنا چاہتے ہیں؟‘‘جواب ملا،’’میں روحانیت کا علم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘سید صاحب نے بڑی نرمی سے پوچھا،’’یہ علم آپ کیوں چاہتے ہیں؟‘‘اس بار نوجوان نے قدرے ہچکچاہٹ کے بعد جواب دیا،’’سر! میں نیک بننا چاہتا ہوں۔‘‘سید صاحب زیرلب مسکرائے اور گویاہوئے،’’بھائی یہ تو بڑا آسان ہے۔آپ سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کو آپ ﷺکے اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔آپ خودبخود نیک بن جائیں گے۔روحانیت بھی حاصل ہوجائے گی اور صاحب روحانیت کا قرب بھی۔‘‘

کئی برس گزر گئے،مگر سید صاحب مرحوم کی وہ بات ذہن میں نقش ہے۔ سیرت طیبہ ؑ کے مطالعے کی جس قدر تاکید ان کی محفل میں ہوتی تھی،دوسری جگہوں پرکم ہی نظرآئی۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت کے منور پہلووں پر گفتگو کی جس قدر ضرورت ہمارے آج کے معاشرے میں ہے،اتنی شاید کبھی نہیں رہی۔ پاکستانی سوسائٹی کے مختلف پہلووں پر بہت سے مباحث سننے کا موقعہ ملتا ہے،بعض میں خود بھی حصہ لیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا اصل بحران اخلاقی نوعیت کا ہے۔

سوال یہ ہے کہ تبدیلی کیسے آئے اور کہاں سے آغاز کیا جائے؟ ہمارے خیال میں سب سے اہم بات سیرت طیبہ ﷺ کے موضوع کو پوری قوت اور جذبے کے ساتھ لوگوں میں پھیلانا ہے۔ دو عشرے سے زائد ہوچکے،کراچی میں کینٹ اسٹیشن کے قریب واقع لیاقت میموریل لائبریری میں ایک بوڑھے انگریز پروفیسر نے وہ سبق دیا،جو آج تک نہیں بھلا پایا۔آج کل معلوم نہیں کیا صورت حال ہے،مگر ان دنوں پاک امریکن کلچر سنٹر کے سامنے واقع یہ لائبریری بڑی خوبصورت اورہوادار تھی۔اردگرد سرسبزقطعات،کشادہ کھڑکیوں سے بہتی باد صبا،لکڑی کی خوشنما بنچوں پر بیٹھ کر کتابیں پڑھنے کا لطف ہی الگ تھا۔لائبریری کی خوبی یہ تھی کہ قومی شناختی کارڈ جمع کرا کر دو کتابیں ایشو کرائی جا سکتی تھیں۔ ہم جیسے طلبہ کے لئے یہ نعمت سے کم نہیں تھی،جو ہفتوں بلکہ مہینوں لاء کالج بند ہونے کے باعث بولائے بولائے پھرتے۔ خیر قصہ کوتاہ،اسی لائبریری میں ایک بابا جی آیا کرتے۔ وہ اپنے ساتھ موٹی موٹی فلسفیانہ کتابیں لاتے اورمزے سے کھڑکی کے ساتھ بیٹھ کر پڑھتے رہتے۔ ایک دن ہمت کر کے ہم نے تعارف حاصل کر لیا۔

باباجی انگریز پروفیسرتھے۔ پاکستان اپنے صاحبزادے کے پاس آئے ہوئے تھے،جو کسی غیرملکی کمپنی میں ملازم تھا۔کتابوں سے انہیں بڑا لگاؤ تھا۔کہنے لگے کہ کتابیں پڑھنا میرا شوق نہیں،زندگی ہے۔ ایک دن انہوں نے مشہور برطانوی فلاسفر جان لاک کی ایک سالخوردہ کتاب بڑے فخر سے دکھائی۔ ہم نے کتاب الٹ پلٹ کر دیکھی، اٹھارویں صدی کے اس عظیم فلاسفر سے ان دنوں کوئی خاص دلچسپی تھی نہ ہی ان کی عظمت کا اندازہ تھا۔ ہم نے خاموشی سے واپس کر دی۔

بابا جی تاڑ گئے،کہنے لگے،’’تمہیں غالباً اس کتاب کی انفرادیت کا اندازہ نہیں ہوسکا۔پھر کتاب کا پہلا صفحہ کھول کر سن اشاعت دکھایا۔ وہ کتاب کوئی ڈیڑھ سو سال پرانی تھی،قیمت غالبا ایک یا دو پنس لکھی تھی۔ کہنے لگے کہ برطانیہ میں اہل علم وفکر نے سوچ بچار کے بعد معاشرے میں کتاب کو فروغ دینے کے لئے پچھلی صدی میں ایک بھرپور مہم کا فیصلہ کیا۔ حکومتی سبسڈی ملنے پر جان لاک اور ان جیسے دوسرے فلاسفروں اور ادبیوں کی کتابیں نہایت سستے داموں فروخت کی گئیں۔ بڑی بڑی انجمنوں،اداروں،لائبریریوں اور کلبوں میں ان مفکریں پر مباحث کرائے گئے۔مہم اس قدر بھرپور تھی کہ یہ کتابیں فیشن بن گئیں۔ بڑے سے بڑا لارڈ یا امیر کبیر شخص بھی ان کتابوں کو پڑھنا لازمی سمجھتا کہ اسے اندازہ تھا کہ لاعلمی ظاہر کرنا اس کے سوشل سٹیٹس کو نقصان پہنچائے گا۔

انہی دنوں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بچوں اور نوعمر لڑکوں کے لئے آسان زبان میں ان شاہکار کتب کی تلخیص شائع ہوگی۔ آکسفورڈ اور دیگر اداروں سے تیسرے،پانچویں،ساتویں اور نویں،دسویں گریڈ(کلاس) کے لئے الگ الگ کتابیں شائع ہوئیں،جن میں اس عمر کے بچوں کی مناسب سے ذخیرہ الفاظ (Vocabulary)استعمال کیا گیا۔‘‘میں حیرت زدہ انگریز پروفیسرکی گفتگو سنتا رہا۔آخر میں وہ کہنے لگے،تم پاکستانیوں کا غالبا اندازہ نہیں کہ کتاب کلچر کو فروغ دیے بغیرترقی ممکن نہیں۔‘‘

ہمارے خیال میں کتاب کلچر کو فروغ تو خیر ملنا ہی چاہیے،مگر آپ ﷺکی سیرت کے موضوع کوترجیحی بنیادوں پر لینا چاہیے۔ علامہ شبلی اور ان کے جلیل القدر شاگرد سید سلمان ندوی کی سات جلدوں میں سیرت النبی ﷺ شاندار اور بے مثال تصنیف ہے۔ قاضی سلیمان منصور پوری کی رحمتہ العالمینﷺ، چودھری فضل حق کی ’’محبوب خدا‘‘ یا صفی الرحمان مبارک پوری کی الرحیق المختوم‘‘، علامہ مناظر احسن گیلانی کی النبی الخاتم ﷺ،یہ سب اپنے اپنے انداز میں غیرمعمولی کتب ہیں۔بعض اہل خیر نے رومانیہ کے دانشور اور سابق وزیرکونسٹنٹن ورجل جورجیو کی سیرت پر کتاب محمد ﷺ کا اردو ترجمہ بھی شائع کرایا ہے۔

سیرت پر بیش بہا خزانہ اردو میں موجود ہے، تاہم سیرت کے موضوع پر جدید عصری اسلوب میں لکھنے کی آج بھی شدید ضرورت ہے۔ نامور محقق اور نقاد ڈاکٹر وحید قریشی مرحوم کہا کرتے تھے کہ کسی کتاب کے خواہ جس قدر تراجم ہوچکے ہوں، ہر دس سال کے بعد اس کا نیا ترجمہ ہونا چاہیے کہ نئی نسل کے لئے پرانی زبان میں وہ جازبیت اور دلکشی باقی نہیں رہتی۔ہمارے ہاں پچھلے آٹھ دس برسوں میں کئی اچھے ادارے سامنے آئے،جنہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی کتابیں شائع کی ہیں۔بعض مصنفین نے بچوں کے حوالے سے قصص القرآن کو آسان انداز میں لکھا بھی ہے،مگر اس موضوع پر ابھی بہت کچھ ہونے کی ضرورت ہے۔ہمارے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ایک طرف تو سیرت طیبہﷺ کے موضوع کوعمدہ طریقے کے ساتھ طلبہ کے ذہنوں میں نقش کیا جاتا۔ اسے سکولوں اور کالجوں میں پڑھایا تو جا رہا ہے، مگر اس حوالے سے خاصا کچھ مزید کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی آسان شکل یہ ہے کہ اسلامیات کے سو نمبر کے پرچے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے پچاس نمبر صرف سیرت کے لئے مختص کئے جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمارے میڈیا،انٹیلی جنشیا اوراہل خیر کو آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ترویج کے لئے آگے آنا چاہیے۔سیرت کا موضوع تواتر کے ساتھ علمی کام کرنے کا متقاضی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان سکالروں کی ایک جماعت اٹھے اور پوری قوت کے ساتھ اس کام پر جت جائے۔ ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے،مگر اصل اجرتو اس ذات کے پاس ہے،جس سے زیادہ سخی،فراغ دل اور لین دین کا کھرا کوئی نہیں۔

کاش ربیع الاول کے اس مہینے میں مختلف نوعیت کی محافل پر کروڑوں روپے صرف کرنے والے اہل خیر اس کام کی اہمیت کابھی اندازہ کر سکیں۔ہم سب کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنے گھروں میں سیرت ﷺ کی تعلیم اور اسی حساب سے بچوں کی تربیت کا کس قدر اہتمام کیا ہے؟ ربیع الاول کا یہ بابرکت، خوبصورت مہینہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے، یاد کراتا رہے گا۔ سوا ل یہ ہے کہ ہم نے اس سے کس قدر اخذ کیا اور کتنا عمل کر پائے؟

Author

اپنا تبصرہ لکھیں