پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے نواحی علاقے نارنگ منڈی میں متعدد دیہات دریائے راوی میں حالیہ سیلاب کے باعث شدید متاثر ہوئے ہیں۔ نارنگ منڈی کے یہ دیہات دو اطراف سے راوی، ایک طرف سے بی آر بی نہر اور دوسری طرف سے مرالہ راوی لنک کینال میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہاں کے لوگ زراعت سے وابستہ ہونے کے ساتھ بڑے پیمانے پر مال مویشی پالنے اور چرانے کا کام بھی کرتے ہیں۔
راجپورہ، پسیانوالہ، سترائیاں، لونگ والہ، کجلہ، منڈھیالی اور میروال سمیت مختلف گاؤں کے کسان شیرپور کے مقام سے مویشی لے کر دریا پار چرانے جاتے ہیں، جہاں ان جانوروں کو مختلف ڈیروں میں رکھا جاتا ہے۔
دریائے راوی میں اونچے درجے کے سیلابی ریلوں کے دوران بھی یہ کسان اور چرواہے دریا پار مویشی چرانے گئے تھے، اور صورتحال خراب ہونے کی صورت میں جب وہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو ان کے جانور پانی میں پھنس کر رہ گئے۔
مقامی کسان سیف اللہ نے تاشقند اردو کو بتایا کہ 36 سال سے یہاں پانی نہیں آیا تھا، اس لیے ہم معمول کے مطابق مویشی چرانے دریا پار گئے تھے۔ وہاں پانی مسلسل بڑھ رہا تھا اور ہم واپس جانے کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈ رہے تھے۔
شیرپور کے اس علاقے میں رینجرز کا ایک چیک پوسٹ بھی موجود ہے۔ سیف اللہ کہتے ہیں کہ “شیرپور چیک پوسٹ کے قریب پھر وہاں پانی کے سامنے بندھ بنایا گیا اور ہم نے کچھ جانور وہاں رکھے اور بعض کو قریب کے ڈیروں میں منتقل کردیا۔”
پانچ دن اس بندھ اور ڈیروں میں رہنے والے ان کسانوں کے جانور بھوک سے نڈھال تھے جبکہ انہیں کھانے پینے کی اشیاء ڈیروں سے مل جاتی تھیں۔ سیف اللہ کے مطابق وہاں ڈیروں کے مالکان کے پاس بڑے بڑے بیڑے بھی تھے لیکن ان کے ذریعے مویشی نکالنے میں مشکل ہو رہی تھی جبکہ پانی کا بہاؤ بھی تیز تھا۔
اس دوران متاثر ہونے والے ایک اور کسان عبدالخالق نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “کوئی سو کے قریب مویشی بھوک اور پانی کی وجہ سے ضائع بھی ہوگئے۔ ہم تقریباً سو کے قریب چرواہوں کے ساتھ دو ہزار سے زائد مویشی تھے، جو ہم تین دہائیوں سے چرانے دریا پار لے کر جاتے ہیں۔”
عبدالخالق کہتے ہیں کہ “اس صورتحال میں ہم نے خود سے جانور نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ ہمارے قابو میں نہ آئے۔ پانی قدرے کم ہوگیا تھا لیکن پھر بھی ہمارے جانور دریا پار کرنے میں ناکام نظر آرہے تھے۔ یہاں سے آگے ریسکیو والوں نے ہمارے جانور بچائے۔”
ان کسانوں اور مویشیوں کو ریسکیو کرنے والی ٹیم کے انچارج علی مرتضیٰ نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” یکم ستمبر کو یہ لوگ اپنے دیہاتوں کو واپس جانا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جانور پانی میں تیر کر دوسرے کنارے تک پہنچ جائیں گے، جیسے ہی انہوں نے جانور پانی میں اتارے تو معاملہ اس کے برعکس ہوا۔”
علی مرتضیٰ کے مطابق جہاں جانوروں کو پانی میں اتارا گیا تھا وہاں سے پانی ذرا سے فاصلے کے بعد دوبارہ زیادہ دباؤ کے ساتھ واپس اس مقام پر آجاتا تھا۔ تین ایکڑ کے اس گول چکر میں بھینسیں بار بار گھومتی رہیں۔ یہاں سے ہمیں اطلاع ملی، جس کے بعد ہم نے اپنے آپریشن کا آغاز کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ “دو کشتیاں لے کر ہم جب وہاں پہنچے تو آپریشن کافی سنگین معلوم ہو رہا تھا۔ ہم نے حکمتِ عملی یہ اختیار کی کہ ایک ایک جانور کو پکڑ کر کنارے تک پہنچاتے گئے۔ بعض جانوروں کو گلے کے ساتھ باندھ کر اور بعض کو رسیوں کے ذریعے پانی سے نکالا۔”
ریسکیو کا یہ آپریشن تقریباً تین بجے شروع ہوا تھا اور رات ساڑھے نو بجے تک جاری رہا۔ علی مرتضیٰ نے بتایا کہ “اس دوران ہم نے ڈھائی سو جانوروں کے ساتھ چار افراد کو بھی ریسکیو کیا، جو مویشیوں کے پیچھے اپنی جان خطرے میں ڈال رہے تھے۔”
علی مرتضیٰ نے کسانوں کے موقف کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ “ان ڈیروں کو پہلے خالی کروادیا گیا تھا لیکن کچھ کسانوں کا اصرار تھا کہ وہ یہاں اپنے ڈیروں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرا اس مقام پر سو روپے فی بھینس کے حساب سے بیڑوں کے ذریعے بھی جانور دریا پار کیے جاتے ہیں، لیکن پیسے بچانے اور مزید پانی کے خوف نے انہیں اس عمل پر مجبور کیا۔”
دوسری طرف کسان سیف اللہ بتاتے ہیں کہ “ہم نے چند جانوروں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی تھی، جبکہ زیادہ جانور اب بھی وہاں موجود ہیں۔ جانی نقصان ہمارا کوئی نہیں ہوا، باقی مال مویشی پھر آجائیں گے۔”
مقامی صحافی احسان اللہ نے بتایا کہ “یہ تقریباً سات سے آٹھ گاؤں پر مشتمل کسان تھے، جن میں میرا گاؤں راجپورہ بھی شامل تھا۔ یہ ریسکیو آپریشن بہت مشکل تھا۔ جانور ایسے مقام پر تھے جہاں پانی تیز بہاؤ کے ساتھ واپس آرہا تھا۔”
“مجھے اپنے گاؤں سے اس کی اطلاع ملی، جس کے بعد میں نے پی ڈی ایم اے سے رابطہ کیا، وہاں سے میری بات ضلع شیخوپورہ کے ڈی سی آفس ہوئی۔ انہوں نے میرا رابطہ تحصیل دفتر کے ذریعے مقامی ریسکیو اہلکاروں سے کرایا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم بڑے نقصان سے بچ گئے۔”