جسوندر سنگھ بھلا ؛ محبتیں بانٹنے والا فنکار

یہ بات مذہب یا ملک کی نہیں، بس ایک فنکار کی ہے۔ بھارتی پنجاب کے معروف اداکار جسوندر سنگھ بھلا اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ۔ ان کے جانے کے احساسات کچھ ایسے ہی ہیں کہ جیسے کوئی پاکستانی پنجاب کا محبتیں بانٹنے والا فنکار رخصت ہوا ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ فنکاروں کا درد اور خوشی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے، وہ دلوں کو چھوتے ہیں اور خوشیاں بکھیرتے ہیں ۔ جسوندر بھلا کا اصل مقام بھی شاید یہی ہے ۔

جسوندر بھلا کی زندگی ایک دلچسپ امتزاج تھی۔ وہ محض اداکار نہیں بلکہ ایک استاد بھی تھے۔ ایگری کلچر کے طالب علم رہے، یہاں تک کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا اصل میدان تعلیم تھا، لیکن قدرت انہیں شوبز کی دنیا میں لے آئی ۔ وہ کیسے اور کیوں اس سفر پر نکلے، شاید یہ سوال اتنا اہم نہیں ، لیکن جب وہ فن کی اس دنیا میں آئے تو پنجابی فلموں اور ڈراموں کے مداحوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بھارت سے لے کر برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا تک جہاں جہاں پنجابی زبان سمجھی جاتی تھی ، وہاں وہاں جسوندر بھلا کے ڈائیلاگ اور مکالمے گونجتے رہے۔

ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی علمی اور تدریسی حیثیت پر کبھی تکبر کا شکار نہیں ہوئے ۔ استاد بھی تھے اور فنکار بھی، لیکن دونوں حیثیتوں کو ملا کر ایک منفرد شخصیت تھے۔ اپنے کرداروں میں وہ کبھی عام کسان لگتے، کبھی شوخ مزاحیہ کردار، کبھی سنجیدہ باپ تو کبھی شریر دوست۔ ان میں یہ خصوصیت تھی کہ وہ ہر روپ میں ڈھلنے کا ہنر جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پنجابی ناظرین کے دلوں میں ایک خاص مقام حاصل کر لیا تھا ۔

زندگی میں وہ کئی عادات کے اسیر رہے۔ شوگر کے مریض ہونے کے باوجود میٹھے سے دور نہ رہتے تھے ۔ دوست اور ساتھی فنکار بارہا منع کرتے مگر وہ ہنستے ہوئے کہہ دیتے، “زندگی کچھ بھی ہو، میٹھے کے بغیر پھیکی لگتی ہے۔” یہی شوخی، یہی لاابالی پن اور یہی طرز حیات انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا ۔

بلاشبہ جسوندر بھلا نے اپنی زندگی میں خوشیاں تقسیم کیں۔ وہ اپنے فن اور مسکراہٹ کے ذریعے لوگوں کے چہروں پر ہنسی بکھیرتے رہے۔ وہ ہندوستانی ہوتے یا پاکستانی ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ان کا فن دونوں پنجابوں میں مقبول تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے جانے پر صرف بھارتی پنجاب نہیں، پاکستانی پنجاب بھی اُداس ہے۔ فن کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف ملکوں کے نہیں بلکہ خطّوں اور تہذیبوں کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ جسوندر سنگھ بھلا انہی چند لوگوں میں شامل ہیں۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے خطے میں فنکاروں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے؟ ہم انہیں جیتے جی وہ مقام دیتے ہیں یا نہیں جس کے وہ حقدار ہیں؟ کیونکہ فنکار کا اصل سرمایہ یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں خوشیاں بانٹے اور اپنے جانے کے بعد یادوں کا سرمایہ چھوڑ جائے۔ جسوندر بھلا نے یہ سرمایہ وافر چھوڑا ہے۔ ان کا فن، ان کی مسکراہٹ اور ان کی محبتیں آنے والے برسوں تک دونوں پنجابوں میں یکساں طور پر یاد کی جاتی رہیں گی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں