ریاض اللہ کی عمر اس وقت نو سال تھی جب انہیں تقسیم ہند کے بعد ہجرت کی دشواریاں سہنی پڑیں۔اٹھتر برس بیت گئے مگر آج بھی قتل و غارت سے بھرے اس تلخ تجربے کویاد کرتے وقت ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔
86 سالہ ریاض اللہ قیام پاکستان سے پہلے پنجاب کے شہر ٹوہانہ اور بڈھلاڈہ کے ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے دادا کی جنرل اسٹور کی بڑی دکان شہر میں مشہور تھی۔ دادا نہ صرف ایک کامیاب تاجر تھے بلکہ بڈھلاڈہ شہر کی میونسپل کمیٹی کے صدر اور سرگرم مسلم لیگی رہنما بھی تھے۔
تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے ریاض اللہ نے بتایا کہ’ہمارے پاس ایک گاؤں تھا جہاں سارے مسلمان مارے گئے۔ ان کی عورتوں نے کنویں میں چھلانگیں لگا دیں اور کنواں عورتوں سے بھر گیا۔ بڈھلاڈہ شہر میں مسلمان کم تھے جبکہ ہمارے ٹوہانہ میں زیادہ تھے۔ اس لیے بڈھلاڈہ میں بچ جانے والے ٹوہانہ آتے تھے۔’
ریاض اللہ کا خاندان ان دو شہروں میں آباد تھا۔ان کے مطابق چودہ اگست سے پہلے یہ افواہ تھی کہ دہلی تک پاکستان بنے گا۔ پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو مار دھاڑ شروع ہوگئی۔ گاڑیوں میں مسلمانوں کو مار کر پھینکا جاتا اور پھر مسلمان جا کر انہیں دفناآتے ۔ اس کے بعد دیہات میں بھی حملے شروع ہوئے۔

ریاض اللہ بتاتے ہیں کہ ‘میرے دادا نے بھی ٹوہانہ میں اپنے خاندان کو لے کر آنا تھا لیکن ریلوے میں فسادات بڑھ گئے۔سکھ جاٹ اور ہندو مسلمانوں کو قتل کرتے تھے اور ان کی عورتوں کو اٹھا کر کے لے جاتے تھے۔ اس لیے کسی نے مشورہ دیا کہ بڈھلاڈہ کے نزدیک موضع تلونڈی میں چونکہ مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے، اس لیے بڑ ھلاڈہ کے مسلمان بھی وہاں آجائیں اور پھر وہاں پر مل کر ہندؤں کا مقابلہ کیا جائے۔’
اس طرح ریاض اللہ کے دادا اپنے خاندان کو لے کر تلونڈی چلے گئے ۔ نیت یہ تھی کہ وہاں سے تمام مسلمان اکٹھے ہو کر ٹو ہانہ چلے جائیں گے، لیکن ریاض اللہ کہتے ہیں کہ’ ہندوؤں کو منصوبے کا پتہ چلا تو انہوں نے سکھوں اور جاٹوں کو لے کر تلونڈی پر حملہ کر دیا۔ میرے والد کے پاس تھری ناٹ تھری کی رائفل تھی۔ ان کے علاوہ تین چار اور مسلمانوں کے پاس بھی رائفلیں تھیں ۔ ان سے ہندوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا گیا اور انہیں بھاگنے پر مجبور کیاگیا۔’
‘ابھی دوسرے دن لوگ تلونڈی سے نکل جانے کا پروگرام بناہی رہے تھے کہ تیسرے دن سکھوں اور ہندؤں کی فوج نے مل کر حملہ کر دیا۔ رائفلوں کی گولیاں ختم ہوئیں تو دست بدست لڑائی شروع ہوگئی۔ کافی مسلمان شہید کر دیے گئے جن میں میرے خاندان کے عورتوں مردوں سمیت 14 افراد شامل تھے۔’
انہوں نے مزید بتایا کہ’ ان میں میرے دادا، والد، بھائی اور دادی سمیت دو پھوپھیاں، ایک پھوپھی کا خاوند، ایک پھوپھی کی بیٹی ، ماموں حافظ محمد عثمان، ممانی ، ان کی ایک بیٹی اور ان کے تین مہمان شہید ہو گئے ۔’
اس صورتحال میں ارد گردکے علاقوں سے بے گھر ہونے والے مسلمان ٹوہانہ میں پناہ گزین تھے۔ وہاں مسلمانوں نے اپنے دفاع کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی تھی۔ریاض اللہ کے مطابق ان کے شہر میں لودھی پٹھان آباد تھے، جنہوں نے اپنے گھروں کو مورچوں میں بدل دیا تھا اور علاقے کے داخلی راستوں پر دیواریں اور دروازے لگا دیے تھے جبکہ مسلمان عورتیں بھی پٹھانوں کے قلعے میں پناہ لیے ہوئے تھیں۔’

ریاض اللہ یاد کرتے ہیں کہ ‘ٹوہانہ پر بھی جب حملہ ہوا تو اس دوران باہر سے آنے والے متعدد ہندو گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے، جبکہ مسلمانوں کے صرف پانچ افراد شہید ہوئے۔ مسلمانوں نے بھاگتے ہوئے مخالفین کا پیچھا کر کے برچھوں اور تلواروں سے بھی حملے کیے۔ رات کو لڑائی ختم ہوئی اور اگلی صبح ہندوؤں نے سفید جھنڈا لہرا کر صلح کا پیغام دیا۔ ‘
ریاض اللہ تقسیم ہند کے وقت آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ان کی یادداشت کے مطابق اس مقابلے کے بعد ہندؤں نے فوج بلائی تو وہاں موجود پٹھانوں نے مذاکرات کیے اور راستہ دینے کی صورت میں پیدل پاکستان جانے کا مطالبہ کیا۔
ٹوہانہ کے مسلمان پاکستان کیسے پہنچیں؟
اسلحہ دفن کرتے ہوئے ٹوہانہ کے ان مسلمانوں کو ایک ہفتے بعد پیدل جانے کی اجازت دی گئی۔لوگوں نے بیل گاڑیاںاور گدھے خریدنا شروع کیے۔ ان میں ریاض اللہ کے نانا نے بھی ایک بیل گاڑی خریدی جس پر ان کا خاندان سوار ہوا۔
ریاض اللہ نے بتایا کہ ‘عورتیں اور بچے بیل گاڑیوں میں اور مرد زیادہ تر پیدل تھے۔ شام کو ٹوہانہ سے تقریباً دس میل دور گاؤں جھلیاں میں پہلا پڑاؤ ڈالا گیا۔ اگلی صبح روانگی ہوئی اور دو دن بعد موضع فتح آباد پہنچے، جہاں ایک ہفتہ قیام کیا۔ اسی دوران فوج نے ہمارے پٹھان رہنماؤں کو بلا کر دھوکے سے ہندوؤں کے حوالے کر دیا، جو بعد میں شہید کر دیے گئے۔’
‘آٹھ دن بعد میوات سے آنے والا ایک بڑا قافلہ ہم سے آ ملا۔ ان کے ساتھ اونٹ گاڑیاں تھیں، لیکن قافلے میں ہیضہ پھیلا ہوا تھا۔ بیماری ہمارے قافلے میں بھی آ گئی اور کئی لوگ جان سے گئے۔ دو راتوں بعد ہم پاکستان کے ہیڈ سلیمانکی پہنچے۔ ہیڈ عبور کرنے کے بعد پاکستانی فوجی رضاکار ملے تو سب کے چہروں پر سکون آ گیا۔ ہمیں جتوئی ضلع مظفرگڑھ جانے کا کہا گیا، مگر کچھ لوگ دوسرے شہروں میں جا بسے۔’