صادق آباد میں محمد یوسف کے گھر ہر وقت پرندوں کا جھرمٹ لگا رہتا ہے۔ ان کے صحن میں مختلف اقسام کے پرندے روز بسیرا کر لیتے ہیں اور ان کے گھر کو باغ کی شکل دے جاتے ہیں۔ یہ پرندے پنجروں میں قید نہیں ہیں، نہ ہی ان کے پر کاٹے گئے ہیں بلکہ سازگار ماحول نے ان کے گھر کو ‘پرندوں والا گھر’ بنا دیا ہے۔
محمد یوسف پیشے کے لحاظ سے کیمیکل انجینئر ہیں لیکن پرندوں اور پودے لگانے کا شوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ہمیں چار سال بعد کمپنی کی جانب سے اہلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نیا گھر دیا جاتا ہے۔ میری ہمیشہ یہ عادت رہی ہے کہ مجھے جو بھی گھر ملا، میں نے وہاں جا کر پہلی فرصت میں پودے لگائے کیونکہ مجھے اس کا شوق ہے۔ میرے لگائے ہوئے ایک ہزار پودے اس وقت انجیر کے پھل دے رہے ہیں۔’
محمد یوسف عموماً گھر میں پھل دار درخت لگاتے ہیں کیونکہ یہ پرندوں کے خوراک کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘ہم میاں بیوی گھر میں پرندوں کے لیے کھانے پینے کی اشیاء بھی رکھنے کے عادی ہیں۔ پھل دار درختوں اور کھانے پینے کی ان اشیاء کی وجہ سے میرے ہاں پرندوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔’

محمد یوسف ساڑھے تین سال پہلے صادق آباد کے اس گھر میں منتقل ہوئے۔ ان کے مطابق منتقلی کے وقت اس گھر کے صحن میں دو کھجور کے درختوں کے سوا کوئی پودا موجود نہیں تھا۔ اس کھلے میدان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے سات انجیر کے پودے لگائے جبکہ شہتوت سمیت دیگر پودے بھی کاشت کیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ان درختوں پر پھل آتے ہی پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہاں فاختہ، بلبل، چڑیاں، ‘سیون سسٹرز’ کہلانے والا پرندہ جنگل ببلر، جسے مقامی لوگ ہیڑے بھی کہتے ہیں، آنا شروع ہوئے۔ ‘روفس ٹری پائی’ نامی پرندے بھی میں نے یہاں دیکھے۔ اس کے علاوہ روس سے نقل مکانی کرنے والے تلیر پرندے بھی میرے گھر آتے ہیں۔’
ان پرندوں کے علاوہ آغاز میں اکا دکا طوطے دیکھ کر محمد یوسف کے دل میں یہ خواہش ابھری کہ یہاں ان کی تعداد بھی بڑھنی چاہیے۔وہ بتاتے ہیں کہ ‘اس کے لیے میں نے اپنے گھر سورج مکھی لگائی کیونکہ یہ ان کو بہت پسند آتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے سورج مکھی برتنوں میں بھی رکھنا شروع کی۔ اس کا اتنا اثر ہوا کہ پچھلے تین سال سے طوطوں کی تعداد باقی پرندوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔ یہاں بیک وقت پچاس طوطے بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔’

‘پرندوں والے گھر’ کے نام سے مشہور اس گھر کو لوگ مثالی سمجھتے ہیں اور محمد یوسف کے کہنے پر اپنے گھروں میں بھی اس سلسلے کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، محمد یوسف سمجھتے ہیں کہ ‘اردگرد میرے گھر کی طرح کوئی مثال تو قائم نہیں ہوئی، تاہم لوگ میرے گھر اس منظر سے لطف اٹھانے ضرور آتے ہیں۔ گویا میرا گھر پودوں اور پرندوں کی وجہ سے باغ بن گیا ہے۔’
محمد یوسف گزشتہ تیس سالوں میں کئی گھر تبدیل کر چکے ہیں۔ انہوں نے ہر گھر میں اس ماحول کو برقرار رکھا۔ ان کے مطابق وہ سندھ میں تیرہ سال رہے، وہاں بھی ان کی یہی ترتیب ہوتی تھی جبکہ سولہ سال سے صادق آباد میں چار گھر تبدیل کیے اور جس گھر سے بھی نکلے، وہاں ایسا ماحول چھوڑ کر آئے۔
اپنے گھر پرندوں کو کیسے بلائیں؟
محمد یوسف نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ‘ایک عام بندے کو اپنے گھر میں پرندوں کا جھرمٹ سجانے کے لیے پھل دار پودے لگانے چاہییں جبکہ کھانے پینے کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔ کھانے کا بندوبست ممکن نہ ہو تو صرف پینے کی اشیاء بھی رکھی جا سکتی ہیں۔ تیسرے نمبر پر اس کی کامیابی محفوظ ماحول پر منحصر ہے۔ اگر پرندوں کو تنگ کریں گے اور ان کی پکڑ ہوگی تو آپ کے گھر پر ان کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔’

وہ سمجھتے ہیں کہ ‘گھروں میں عموماً پھل دار پودے ہی لگانے چاہییں۔ انجیر اس میں سب سے زیادہ مؤثر ہے۔ پرندے اس درخت کے دیوانے ہوتے ہیں۔ اللہ نے بجا طور پر قسم کھائی ہے کہ انجیر انسانوں سمیت پرندوں کے لیے بھی مرغوب ہے۔ اس کو کھانے کے لیے کوئل خصوصی طور پر بہت آتی ہے جبکہ باقی پرندے بھی اس پھل کے بہت دیوانے ہیں۔’
ان کے مطابق یہ کام کرنے سے لوگوں کو ضرور پرندے دیکھنے کو ملیں گے۔ اگر پرندے پالنے کا واقعی کسی کو شوق ہے تو پنجروں کے بجائے درخت لگانے چاہییں اور اسی پیغام کا پھیلاؤ ان کا اصل مقصد ہے۔