بھارت کی شمالی ہمالیائی ریاست اترکھنڈ میں شدید بارشوں کے باعث آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے ہیں۔
سیلاب نے منگل کو ضلع اترکاشی کے گاؤں دھارالی کو نشانہ بنایا، جو گنگوتری کے مقدس ہندو یاترا کے راستے میں ایک اہم پڑاؤ سمجھا جاتا ہے۔ اچانک مٹی اور ملبے سے بھرا پانی وادی میں داخل ہوا اور پورا علاقہ لپیٹ میں لے لیا۔
شدید بارشوں کا سلسلہ بدھ کے روز بھی جاری رہا، جس سے ریسکیو آپریشن میں مزید مشکلات پیش آئیں۔ مقامی حکام کے مطابق اب تک 190 سے زائد افراد کو بچا لیا گیا ہے، جب کہ آٹھ فوجیوں سمیت تقریباً پچاس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
سیلاب سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے، فون لائنیں منقطع ہو گئی ہیں اور بیشتر سڑکیں یا تو ٹوٹ چکی ہیں یا بڑی چٹانوں سے بند ہو گئی ہیں۔ مقامی افسر کے مطابق گاؤں کا بڑا حصہ مٹی میں دفن ہو چکا ہے۔ کچھ مقامات پر مٹی کی تہہ 15 میٹر تک بلند ہے، جو پورے کے پورے مکانات کو دفن کرنے کے لیے کافی ہے۔
بھارتی فوج نے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن کی قیادت سنبھال لی ہے، اور ریسکیو کے لیے اضافی فوجی دستے، سونگھنے والے کتے، ڈرونز اور بھاری مشینری تعینات کی گئی ہے۔ فوجی ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں ادویات اور دیگر امدادی سامان پہنچا رہے ہیں۔
سیلاب کے باعث موبائل اور بجلی کے ٹاور بھی بہہ گئے ہیں، جس کے باعث ریسکیو ٹیموں کو سیٹلائٹ فون فراہم کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے مطابق منگل کی رات تک تقریباً 130 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹرز دور دراز علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔