نیکسس، جہاں انفارمیشن نیٹ ورکس یکجا ہو کر طاقت کے لیے جائے مقام بناتے ہیں

یوال نوح حراری کا شمار دورِ جدید کے ان اسکالرز میں ہوتا ہے، جنہوں نے ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا، جو معلومات کی بے ہنگم گولہ باری میں کہیں دب گئے تھے یا عوام کی نظروں سے محو ہو گئے تھے۔

روٹی جیسی بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سرگرداں ترقی پذیر ممالک کے عوام کے لیے اس رو میں بہہ جانا اور ٹیکنالوجی کو اپنی استعماریت کے فروغ کے لیے آلہ سمجھنے والوں کے شکنجے میں پھنس جانا عین فطری عمل تھا۔

ایسے میں حراری نے “علم انسانیت کی مشترکہ میراث ہے” کے مصداق اپنے تئیں چند موضوعات میں رہنمائی کی کوشش کی، جن میں “مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا انقلاب” بھی شامل ہے، جس کی بدلتی طاقت کے ساتھ ڈھلنا تو معمول بن گیا ہے، لیکن ذرا کچھ دیر کے لیے ٹھہر کر اس کرم نوازی پر غور و خوض عام بندے کے بس کی بات نہیں رہی تھی۔

حراری گزشتہ کئی سالوں سے اے آئی سے جڑی انسانیت کی بقا کو لاحق خطرات پر اپنی تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر مورخ ہیں، اور تاریخ کو حال اور مستقبل کے مسائل کی فہم اور آگہی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔

ان کی کتاب “نیکسس” حال ہی میں زیرِ مطالعہ رہی۔ ان کے نزدیک “نیکسس” وہ مقام ہے جہاں تمام انفارمیشن نیٹ ورکس یکجا ہو کر طاقت کے لیے جائے مقام بناتے ہیں۔ یہ کتاب دراصل انسانی تاریخ میں وجود پانے والے انفارمیشن نیٹ ورکس اور اس کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے اہم تاریخی واقعات کی بنیاد پر موجودہ اے آئی پر مبنی انفارمیشن نیٹ ورک کی توضیح ہے۔

اس کتاب کے کل تین حصے اور گیارہ ابواب ہیں۔ ان کے نزدیک معلومات اپنی اصل میں “سچ” کی تلاش ہے، تاہم انسانوں نے تاریخ میں “آرڈر” کو “سچ” پر فوقیت دی، جبکہ انفارمیشن نیٹ ورک کے قیام کا مقصد ہمیشہ انسانوں کی مخصوص تعداد کو باہم مربوط اور یکجا رکھنے کی کوشش رہا۔

اس مقدمے کو بنیاد بناتے ہوئے وہ “سٹوری” اور “ٹیکسٹ” کو تاریخِ انسانی کے پہلے انفارمیشن نیٹ ورکس کے طور پر دیکھتے ہیں، جنہوں نے انسانوں کے آپسی تعلقات کو پروان چڑھایا۔ انہی کہانیوں اور الفاظ نے بین الموضوعی حقائق (intersubjective realities) تخلیق کرتے ہوئے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی۔ ان خیالات کا اظہار وہ مذہب کے بارے میں بھی کرتے ہیں۔

اس کتاب کا پہلا حصہ ان نیٹ ورکس اور ان سے منسلک تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔ دوسرے حصے میں یہ بحث معلومات کی بنیاد پر “انسانی نیٹ ورکس” سے نکل کر “غیر نامیاتی نیٹ ورکس (inorganic networks)” یعنی پرنٹنگ اور ماس میڈیا کے انقلاب تک پہنچ جاتی ہے۔

یہاں وہ دو نظامِ سلطنت پر ان انقلابات کا اثر دکھاتے ہیں اور یہی بحث اس کتاب کے اصل مطمع نظر کی عکاسی کرتی ہے۔ افلاطون اور ارسطو نے کہا تھا کہ وسیع سلطنت میں جمہوریت کا نفاذ ناممکن ہوتا ہے، لیکن قرونِ وسطیٰ اور انیسویں صدی کے انقلابات بشمول ماس میڈیا نے جمہوریت کو رواج پانے میں مدد دی، کیونکہ وہ بتاتے ہیں کہ جمہوریت محض ایک مخصوص وقفے کے بعد انتخابی عمل سے گزرنے کا نام نہیں ہے بلکہ خود احتسابی اور بڑے پیمانے پر بحث و مباحثے کے کلچر سے اس کی ناکامی اور کامیابی کا تعین کیا جاتا ہے۔

معلومات اور بحث و مباحثے کی غیر مرکزی ہیئت ہی دراصل جمہوریت کو مطلق العنانیت (totalitarianism) سے الگ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماس میڈیا نے جہاں مکالمے کو آسان بناتے ہوئے جمہوریت کو فائدہ دیا، وہیں مطلق العنانیت بھی پورے زور سے مستحکم ہو گئی۔ موخر الذکر کی مثال کے طور پر وہ سٹالن کا سویت یونین اور ہٹلر کی جرمنی کو پیش کرتے ہیں، جو حراری کے مطابق جدید مطلق العنان ادوار ہیں۔

حراری کے misanthropic ورلڈ ویو میں انسانی بقا کو خطرہ بیسویں صدی میں کمپیوٹر کی ایجاد اور آگے چل کر مصنوعی ذہانت پر اس کے منتج ہونے سے لاحق ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی کے انفارمیشن نیٹ ورکس کی ان زنجیروں میں انسان برابر کا حصہ دار تھا، جبکہ کمپیوٹر نیٹ ورکس میں انسان کا وجود ختم ہوتا جا رہا ہے۔

سٹوری، ٹیکسٹ، اور اس کے نتیجے میں مذاہب کے اس پورے سلسلے میں انسان کی اہمیت اور افادیت قائم تھی۔ حتیٰ کہ انسان کے بغیر یہ عمل چل ہی نہیں سکتا تھا، لیکن یہاں اے آئی کمپیوٹر کی زبان میں مہارت کے ساتھ خیال اور تصور پیدا کرنے کی اہلیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے جمہوریت کے لیے تو یہ خطرہ ہے ہی، لیکن مطلق العنانیت کی جگہ لینے کی صلاحیت بھی اس میں موجود ہے، جہاں انسان پر ہٹلر کے بجائے الگورِتھمز کی بادشاہت قائم ہو سکتی ہے۔

اگرچہ اس کتاب میں کوئی واضح حل موجود نہیں ہے اور یہ ٹیکنالوجی کے منفی رخ پر مبنی ہے، لیکن وہ جمہوری حکومتوں کو اس کی ذمہ داری لینے کا درس ضرور دیتے ہیں۔ انسانوں نے طاقت کا حصول تو سیکھ لیا ہے، لیکن اسے عقل مندی کے ساتھ استعمال کرنے کے گر نہیں سیکھے۔ اس لیے حراری اپنی کتاب ختم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہمیں کچھ مسائل باہم رضامندی اور پُرامن طریقے سے مل بیٹھ کر حل کرنے ہوں گے، جن میں اے آئی پر بڑھتا ہوا انحصار اور اسے طاقت کا سرچشمہ بنانا سرفہرست ہے۔

نوٹ: یہ تحریر یووال نوح حراری کی کتاب Nexus کے چند فکری نکات پر مبنی ایک جائزہ ہے، جو کتاب کے مکمل خلاصے کا متبادل نہیں بلکہ ایک زاویۂ نظر پیش کرتی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں