پاکستان اور بھارت؛ سفارتی و عسکری کشیدگی

اپریل میں پیش آنے والے واقع ہے بعد سے جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی ہمسایوں، پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی تھمنے کو نہیں آ رہی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ اور کشیدہ رہے ہیں، جو تاریخی، سیاسی، اور جغرافیائی تنازعات سے عبارت ہیں۔ 2025ء میں یہ کشیدگی ایک نئے عروج پر پہنچی، جب اپریل میں پہلگام حملے نے دونوں ممالک کو عسکری اور سفارتی محاذ پر آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ مئی 2025ء کے فضائی حملوں اور اس کے نتیجے میں جنگ بندی سے لے کر جولائی تک، دونوں ممالک نے نہ صرف میدان جنگ بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کیا یہ تناؤ خطے کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لے جائے گا، یا سفارتی کوششیں امن کی راہ ہموار کر سکتی ہیں؟ اس سوال کا جواب اس سال کے واقعات کے گہرے اثرات سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ایک دہشت گرد حملہ ہوا، جس میں مختلف ذرائع کے مطابق 24 سے 28 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ بھارت نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کی، دعویٰ کیا کہ یہ پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں جیش محمد اور لشکر طیبہ کا کارنامہ تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسے “سرحد پار دہشت گردی” قرار دیا۔پاکستان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت نے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا، اور یہ حملہ بھارت کی داخلی سیکیورٹی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت نے اس حملے کے جواب میں کرتارپور راہداری معطل کر دی، جو سالانہ 100,000 سے زائد سکھ یاتریوں کے لئے جذباتی حمیت رکھتی ہے۔ پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بند کر دیں، جس سے بھارتی ایئرلائنز کو روزانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

7 مئی 2025 کو بھارت نے “آپریشن سندور” کا آغاز کیا اور پاکستان کے مختلف علاقوں، بشمول بالاکوٹ، بہاولپور، مریدکے اور مظفرگڑھ آزاد کشمیر، میں میزائل حملے کیے۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے جیش محمد اور لشکر طیبہ کے 12 دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کیا، اور کوئی پاکستانی فوجی یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا۔ 10 مئی 2025 کو پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے تحت جوابی کارروائی کی، جس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاک فضائیہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے بھارتی فضائیہ کے 5 سے 6 جنگی طیارے، بشمول رافیل اور مگ-21، مار گرائے۔ بھارت نے اس کے مقابلے میں 6 پاکستانی ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔

پاکستان کے مطابق، بھارتی حملوں میں 17 شہری اور 9 فوجی ہلاک ہوئے، جن میں مساجد اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس کے حملوں میں 45 سے زائد “دہشت گرد” مارے گئے۔تاہم آزاد ذرائع سے ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں عسکری کشیدگی کے دوران 6,000 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی، لیکن جنگ بندی کے بعد ایک ہی دن میں 10,123 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو تاریخی ریکارڈ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنگ بندی کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ سعودی عرب، چین، ترکی، ایران، اور متحدہ عرب امارات سمیت 36 ممالک نے سفارتی کوششیں کیں۔ 10 مئی 2025 کو پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مشری نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسے “فوری اور مکمل سیز فائر” قرار دیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے سری نگر اور جموں میں حملے کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دھماکوں اور ڈرونز کی موجودگی کی اطلاعات دیں۔ پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے آزاد کشمیر میں حملے کیے۔ پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھارتی الزامات کو “غلط” قرار دیا۔

ایل او سی پر 2025 میں 150 سے زائد فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔مئی 2025 میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو بے دخل کیا۔ پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے 12 ارکان کو “جاسوسی” کے الزام میں نکالا، جبکہ بھارت نے پاکستانی سفارت خانے کے 15 عملے کو واپس بھیجا۔ پاکستان نے 24 اپریل 2025 کو بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دیں، جس سے بھارتی ایئرلائنز کو ماہانہ 30 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دی اور جولائی 2025 میں دریائے پونچھ پر ڈیم کے اسپل وے کھول کر پاکستان میں 3,500 ایکڑ زرعی اراضی اور 15 دیہات کو سیلاب سے متاثر کیا۔ پاکستان نے بھارت کے اقدامات کے جواب میں شملہ معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی، لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔بھارت نے مئی 2025 میں کرتارپور راہداری معطل کی، جس سے سکھ برادری شدید متاثر ہوئی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کی اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا، جس سے بھارت میں سفارتی اضطراب پیدا ہوا۔ بھارت نے اسے “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا۔ چین نے بھارتی حملوں کو “افسوسناک” قرار دیا اور مہمند ڈیم پر کام تیز کرنے کا اعلان کیا جو 800 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ دونوں ممالک نے جنگ بندی کی حمایت کی۔ ترکی نے پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی، جبکہ سعودی عرب نے تحمل کی اپیل کی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کو “علاقائی استحکام کے لیے اہم” قرار دیا۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 182 ووٹوں کی برتری سے غیر مستقل رکنیت حاصل کی، جو اس کی سفارتی پوزیشن کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ اس اقدام نے بھارتی ایئرلائنز کو شدید معاشی نقصان پہنچایا، جو سفارتی دباؤ کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔ امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش نے کشمیر کو عالمی مسئلہ بنا دیا، جو پاکستان کی دیرینہ پوزیشن کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے چین، سعودی عرب، ترکی، ایران، اور دیگر ممالک سے مضبوط حمایت حاصل کی۔ چین نے سی پیک کے تحت 2 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔

مودی حکومت نے پہلگام حملے کو قوم پرستانہ جذبات کے لیے استعمال کیا، جس سے مودی کی مقبولیت 68 فیصد تک بڑھ گئی۔ بھارت نے امریکی دباؤ کے جواب میں چین کے ساتھ محتاط سفارتی روابط بڑھائے، اور جون 2025 میں سرحدی تنازعات پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے۔ بھارت کے جارحانہ اقدامات، خاص طور پر سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور آبی اقدامات، کے بارے میں عالمی سطح پر تنقید ہوئی۔ واٹر ایڈ ایشیا نے بھارت کے اقدامات کو “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا۔

جنگ بندی کے باوجود، ایل او سی پر 150 سے زائد فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جو اس کی نازک نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کی مذاکرات سے گریز کی پالیسی اور پاکستان کی عالمی فورمز پر فعال حکمت عملی بداعتمادی کو بڑھا رہی ہے۔ سمیر لالوانی کے مطابق، دونوں ممالک کا اپنی اپنی فتح کا دعویٰ استحکام کا باعث بن سکتا ہے، لیکن کشمیر، پانی، اور سرحدی تنازعات کے حل کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔

2025ء کی پاک-بھارت کشیدگی نے دونوں ممالک کی سفارتی اور عسکری صلاحیتوں کو عالمی سطح پر عیاں کر دیا ہے۔ تاحال پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں عالمی ماہرین، بالخصوص بھارتی تجزیہ کار بھارت کو پاکستان کے خلاف کسی بھی طرح کے عسکری محاذ کھولنے سے گریزاں رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ پاکستان نے سفارتی محاذ پر عالمی حمایت، فضائی حدود کی بندش، اور کشمیر کے ایشو کو اجاگر کر کے برتری حاصل کی، جبکہ بھارت نے داخلی سیاسی فوائد اور چین کے ساتھ نئے تعلقات کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، بھارت کو سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر اس کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے۔

خطے میں پائیدار امن کے لیے کچھ اقدامات ناگزیر ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے حل کے بغیر امن ممکن نہیں۔ پانی کے تنازعے کا حل خطے کی معاشی اور ماحولیاتی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ شملہ معاہدے کی روح کے مطابق دوطرفہ مذاکرات کی بحالی ضروری ہے۔ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، چین، اور سعودی عرب، کو ثالثی میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ یہ تناؤ ایٹمی تصادم میں نہ بدلے۔ پاکستان اور بھارت کو اپنی عوام کے مفاد میں تحمل اور حکمت عملی سے کام لینا ہوگا، کیونکہ جنگ کی قیمت دونوں ممالک کے لیے ناقابل برداشت ہوگی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں