‘سانپوں والا اسٹیشن’، پاکستان کے منفرد اور دلچسپ ریلوے اسٹیشنز کونسے ہیں؟

جہلم کے شہر دینہ اور سہاوہ کے بیچ ریلوے لائن پر رتیال نامی ایک ایسا ریلوے اسٹیشن مرکزی سڑک سے دور جنگل میں واقع ہے، جو سانپوں والے اسٹیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جنگل میں واقع ہونے کی وجہ سے یہاں اکثر گرمیوں اور برسات کے موسم میں سانپ نکلتے ہیں۔

ضلع رحیم یار خان کے شہر خانپور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کے ریلوے اسٹیشنوں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ‘ رتیال میں چرواہوں نے اکثر اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ان کے مویشیوں کو سانپوں نے ڈسا ہے۔’

ان کے مطابق ‘اس ریلوے اسٹیشن پر سانپ کے کاٹنے کے بعد ابتدائی طبی امداد کا سامان موجود ہے’، تختی بھی لگی ہوئی ہے۔ یہ پاکستان کا واحد ریلوے اسٹیشن ہے جہاں ریل نیچے گزرتی ہے جبکہ اسٹیشن کی عمارت اوپر ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘ اس اسٹیشن پر کبھی کوئی گاڑی نہیں رکتی تھی۔ یہ اب متروک ہوچکا ہے اور یہاں صرف مقامی لوگ اور چرواہے گزرتے ہیں۔ کئی لوگوں نے ہمیں یہاں مختلف قسم کے سانپوں کی موجودگی کی تصدیق کی۔’

یوں تو ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری تاریخ سے وابستہ ہر شے کی دریافت میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن انہوں نے پاکستان کے ریلوے اسٹیشنوں کو بطور خاص توجہ دی۔ ‘ریل کی سیٹی’کے عنوان سے پاکستان کے ریلوے اسٹیشنوں کی ان کی دریافت کا سلسلہ کافی معروف ہے۔

اس سفر نے انہیں ایسے کئی منفرد اور تاریخی لحاظ سے دلچسپ ریلوے اسٹیشنوں سے متعارف کرایا ہے، جن کے بارے ہمارے ہاں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

کولپور اسٹیشن، جہاں پہنچنے کے لیے ریل کو دو انجن لگتے ہیں

روڑی سے چمن ریلوے لائن پر ایک اسٹیشن کولپور آتا ہے، جس کے بارے میں عظیم شاہ نے بتایا کہ ‘ یہ بلوچستان کا سب سے خوبصورت اور بلند ترین ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہاں سے گزرنے کے لیے ریل کو دو انجن درکار ہوتے ہیں تاکہ اسے چڑھائی میں مدد دے سکے۔’

ان کے مطابق یہ بہت خوبصورت منظر ہوتا ہے۔ یہاں کوئلے کی کانیں اور قدیم سرنگیں بھی موجود ہیں۔ یہاں سے ریل گزرتے ہوئے گمان ہوتا ہے کہ یہ واقعی ایک شاہکار ہے۔

قلعہ بند ریلوے اسٹیشنز

یوں تو پاکستان کے ریلوے اسٹیشنوں کو صوبوں، شہروں، پہاڑوں، صحراؤں اور میدانی علاقوں کی بنیاد پر تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن چند ریلوے اسٹیشن ایسے بھی ہیں، جنہیں قلعہ بند بنایا گیا ہے۔

عظیم شاہ کے مطابق ان اسٹیشنوں کے چاروں اطراف لمبی دیواریں اور برجیاں ہیں۔ بلوچستان کے علاقے تفتان میں آٹھ دس ایسے اسٹیشن ملتے ہیں جہاں صحرائی علاقوں میں طوفان سے بچنے کے لیے ان کو ایسی صورت دی گئی تھی۔

دوسری طرف پنجاب اور خیبرپختونخواء میں خیرپور، کوہاٹ، اور لنڈی کوتل سمیت مختلف علاقوں میں قلعہ بند اسٹیشنوں کے قیام کا مقصد حملہ آوروں سے تحفظ تھا۔

ریلوے اسٹیشن، جو آج ایک عجوبہ کہلاتا

عظیم شاہ نے بتایا کہ ‘ کوئٹہ سے ژوب ایک ریلوے لائن پچھائی گئی تھی جو تقسیم ہند سے پہلے پورے خطے میں سب سے بڑا نیرو گیج ٹریک (تنگ پٹڑی ٹریک) تھا۔ اس کے بارے میں ایک مشہور صحافی نے لکھا ہے کہ اگر آج یہ فعال ہوتا تو یقینا ایک عجوبے میں شمار ہوتا۔ وہ اتنا بڑا اور تنگ پٹڑی کا زبردست ٹریک تھا کہ برف باری میں اس کا منظر دیکھنے لائق ہوتا تھا۔’

‘برف باری اتنی شدید ہوتی کہ ریل کا پانی جم جاتا تھااور اس وجہ سے اسے رکنا پڑتا تھا۔ پاکستان ریلوے کے جاری کردہ نئے نقشے میں اس کی نشاندہی کی گئی ہے اور اسے دوبارہ فعال کرنے پر غور جاری ہے۔’

آخری اسٹیشن جو بھارت سے کٹ گیا

بہاولنگر سے سمہ سٹہ راستے پر ایک تاریخی ‘امروکا ریلوے اسٹیشن ‘ہے۔ کسی زمانے میں یہاں سے کئی ٹرینیں امروکا سے آگے بھٹنڈہ جایا کرتی تھیں۔ تقسیم ہند سے پہلے کراچی سے دہلی جانے والے لوگ اسی امروکا اسٹیشن سے گزر کر جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم نے بھی اس راستے پر سفر کیا۔

عظیم شاہ کے مطابق وہ جب امروکا گئے تو مغرب کا وقت تھا اور ان کے پاس پاکستان کا جھنڈا تھا، جو انہوں نے وہاں لہرایا۔ یہ ایک طرح سے پاکستان کے مشرقی سرحد پر آخری ریلوے اسٹیشن ہے۔

ریلوے اسٹیشنوں کے ساتھ اپنے سفر کی روداد بتاتے ہوئے عظیم شاہ نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ‘ میرے والد صاحب نے نوے کی دہائی میں پاکستان کی بھرپور سیاحت کی۔ ان کی کہانیاں سن کے شوق پیدا ہوتا تھا کہ میں بھی ان کی طرح سفر پر نکلا کروں۔ اس وجہ سے میں نے اپنے ارد گرد علاقوں کے بارے میں معلومات لے کر انہیں دریافت کرنے کی کوشش کی۔ رفتہ رفتہ یہ دائرہ بڑھتا گیا اور میری سیاحت پورے ملک تک پھیل گئی۔ ‘

انہوں نے کہا کہ ‘ خانپور میں ہمارے مکان کے قریب ریلوے اسٹیشن ہے۔ بچپن کے زمانے میں یہاں سے ریل گاڑی گزرتی تھی تو انجن کی آوازیں اور سیٹیاں مجھے اپنا گرویدہ بنا لیتی تھی۔ ان آوازوں سے دوسروں کی نیند میں خلل پڑتی ہوگی لیکن مجھے کافی لطف آتا تھا، جو بعد ازاں محبت کی صورت اختیار کرگیا۔ پٹڑیوں پہ مٹر گشت کرنا، جہاں ریل آئی تو مسافروں کو ہاتھ ہلانا—یہ میرا مشغلہ بن گیا تھا۔

اس کے نتیجے میں آغاز سے عظیم شاہ بخاری نے اپنے ہی علاقے میں ریلوے اسٹیشنوں کو دریافت کرنا شروع کیا اور لڑکپن کے زمانے میں ہی ریلوے پر کوئٹہ شہر کے چار سفر کیے۔ اس سفر نے انہیں ریل کے ذریعے مہم جوئی نے کافی متاثر کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ’ ریل کے اس سفر پر میں حیران تھا۔ یہ کہاں کہاں سے گزرتی ہے۔ سرنگیں، پہاڑ، صحرا، دریا، آبادیاں، طرح طرح کے گاؤں نہ جانے کیا کیا راستے میں سامنے آجاتا ہے، جنہیں باآسانی دیکھنے کے لیے ریل میں بس کے برعکس آپ حرکت بھی کرسکتے ہیں۔’

اپنی تحقیق کا طریقہ کار بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ‘پہلے میں شہر سے شہر راستے کا انتخاب کرتا ہوں اور ریلوے کے ذریعے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہوں۔ دوران سفر آنے والے ہر اسٹیشن کو دریافت کرتا ہوں۔ حتی کہ جہاں ٹرین نہیں رکتی وہاں بھی چلتی گاڑی سے تصویر بنا لیتا ہوں۔’

اس کے علاوہ متروک شدہ اسٹیشنوں کے لیے عظیم شاہ اس ٹریک کا انتخاب کرتے ہیں جہاں سے ٹرین اب نہیں گزرتی۔ وہ موٹر بائیک کے ذریعے اس سفر کے دوران ایسے اسٹیشن دریافت کرتے ہیں، جو غیر فعال ہیں اور وہاں اب یا تو ویران کھنڈرات ہیں یا کوئی گھر آباد ہے۔ دوسرے مرحلے میں عظیم شاہ ان کے بارے میں تحقیق کر کے مختلف صورتوں میں لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔

عظیم شاہ بتاتے ہیں کہ ‘ ان ریلوے اسٹیشنوں سے ملحقہ لوگوں کے مسائل دریافت کرنا بھی میرا ایک مقصد ہوتا ہے۔ میں جاننے کی کوشش کرتا ہوں کہ ریلوے سے متعلق ان کے مسائل کیا ہیں جبکہ متروک شدہ اسٹیشنوں سے متصل علاقوں کو اب کن مشکلات کا سامنا ہیں۔’

پاکستان میں ریلوے کا آغاز کیسے ہوا؟

عظیم شاہ کہتےہیں کہ ‘پورے برصغیر میں سب سے پہلے کراچی سے کوٹلی تک ریلوے لائن بچھائی گئی تھی۔ انگریزوں کے سامان کو ہندوستان کے دوسرے حصوں تک پہنچانے کے لیے سب سے قریبی گزرگاہ کراچی تھی۔ ‘

ان کے مطابق کوٹلی سے آگے امرتسر اور دہلی کو ملایا گیا۔ اس وقت انڈس فلوٹیلا نامی ایک کمپنی کی دریائے سندھ تک کشتیاں چلتی تھیں۔ اس کمپنی نے کشتیوں کے ذریعے انجن ملتان پہنچائے اور دریائے چناب سےہو کر راوی کے ذریعے لاہور پہنچ گئے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ ‘سب سے لمبا اور مشکل ترین ٹریک روڑی سے کوئٹہ تک کا تھا۔ کئی قدرتی آفات کی وجہ سے اسے دوبارہ بھی بحال کیا گیا جبکہ خیبرپختونخواء میں انگریزوں نے دفاعی نقطہ نظر سے ریلوے کے ٹریک بچھائے تاکہ افغانستان میں روسی سلطنت کی آمد کی صورت میں ان کے لیے آمدورفت آسان ہو۔’

Author

اپنا تبصرہ لکھیں