مقامی روابط کو فروغ دینے کا عزم، ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ کیا ہے؟

مقامی روابط کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے دوران ملاقات پاک افغان ریلوے منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیر اعظم دفتر سے جاری بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط کے منصوبوں، خاص طور پر ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ازبک صدر نے معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لیے اپنے سینئر وزراء کے تاشقند اور اسلام آباد کے دوروں پر اتفاق کیا۔

رواں برس وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے دورہ ازبکستان کے دوران بھی انہوں نے ازبک صدر شوکت مرزائیوف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرانس افغان ریلوے منصوبے پر عمل در آمد کے لیے ایک سہ فریقی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ کیا ہے اور پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے اس کی کیا اہمیت اور افادیت ہے؟

ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ کو مزار شریف، کابل اور پشاور ریلوے لائن منصوبہ بھی کہا جاتا ہے۔ 10 ستمبر 2020 میں ازبکستان کے نائب وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے دوران اس منصوبے پر دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ بحث کا آغاز ہوا۔ بعدازاں، دسمبر 2020 میں دونوں ممالک نے عالمی بینک کے ساتھ سرمایہ کاری کے لیے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ اوائل میں افغانستان میں قائم اشرف غنی حکومت اس کو لے کر سنجیدہ نہیں تھی۔ تاہم، 2 فروری 2021 کو دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ طور پر اس معاہدے پر دستخط ہوئے۔

اس معاہدے کے مطابق پشاور سے تاشقند بذریعہ کابل 573 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جائے گی، جس کا تخمینہ 5 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے ۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دو خطوں یعنی وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کو آپس میں ملانا ہے۔ اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو لینڈ لاکڈوسطی ایشیائی ممالک کو بحیرہ عرب تک رسائی حاصل ہونے میں کامیابی حاصل ہوجائے گی۔

فروری 2021 میں اس معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان، افغانستان اور ازبکستان پر مشتمل ٹیکنیکل گروپس کےدرمیان تین ملاقاتیں ہوئیں۔تاہم، اگست 2021 میں اشرف غنی حکومت کے خاتمے اور افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ معاہدہ تاخیر کا شکارہوگیا۔

اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے چند ماہ بعد دسمبر 2021 میں ازبکستان نےاس منصوبہ پر دو روزہ آن لائن کانفرنس منعقد کی، جس میں شراکت دار ممالک سمیت قزاقستان اور روس نے بھی حصہ لیا اور اپنی معاونت کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

اس کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد مسلسل تعطل کا شکار رہا۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان متعدد ملاقاتوں میں اس پر کام کے آغاز کے فیصلے کیے گئے ۔

اس منصوبے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟

لینڈ لاکڈ ممالک کی وجہ سے عالمی مارکیٹوں تک وسطی ایشیائی ممالک کی رسائی محدود ہوتی ہے۔ ان ممالک کی برآمدات زراعت، ہائڈروکاربنز اور معدنیات پر مشتمل ہیں۔ان چیزوں کی نقل وحمل کے لیے مضبوط وزن برداشت کرنے اور کم قیمت پر منتقلی کے ذرائع کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ لہذہ، یہ ریلوے لائن منصوبہ وسطی ایشیائی ممالک کو ان اشیاء کی برآمدات کےلیے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی کو آسان بناتا ہے۔

اسی طرح یہاں سے یہ ممالک چابہار اور چینی بندرگاہوں کو بھی استعمال کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ وسطی ایشیائی ممالک ایک بڑے پیمانے پر توانائی پیدا کرتے ہیں جبکہ جنوبی ایشیاء کو توانائی کی ضرورت رہتی ہے۔ اس لیے اس منصوبے کو دونوں خطوں کی ضروریات کے لیے موزوں قرار دیاجاسکتا ہے۔

دوسری جانب وسطی ایشیاء، جنوبی ایشیاء اور جنوب مغربی ایشیاء کے چوراہے پر قائم پاکستان اس منصوبے کی بدولت ایک معاشی ہب بن سکتا ہے۔ جہاں تین خطوں کو ملانے کےلیے پاکستان راہداری کے طور پر کام کرے گا ۔جبکہ اسی طرح کا فائدہ افغانستان بھی سمیٹ سکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں