حکومت پاکستان کا گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان، 72 ارب اضافی اکھٹے کیے جائیں گے

حکومت پاکستان نے بظاہر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پوری کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کے روز وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں گیس کے مقررہ چارجز میں اضافے کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کا مقصد مالی سال 2025-26 کے لیے محصولات میں اضافہ کرنا اور تقریبا72 ارب روپے اضافی حاصل کرنا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری میں گھریلو محفوظ صارفین کے مقررہ چارجز میں 56 فیصد اور عمومی چارجز میں 37 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم ای سی سی نے مقررہ چارجز میں 50 فیصد اضافے کی منظوری دی، جبکہ کچھ مالی بوجھ صنعتی اور بجلی کے شعبوں پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس فیصلے کے تحت، گھریلو محفوظ صارفین کے لیے مقررہ چارجز 400 روپے سے بڑھا کر 600 روپے، جب کہ غیر محفوظ صارفین کے لیے یہ رقم ایک ہزار سے بڑھا کر 1500 روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں گھریلو زمروں میں سلیب کا پرانا فائدہ ختم کر دیا گیا ہے اور اب ہر صارف سے ابتدائی شرح کے مطابق چارجز لیے جائیں گے۔

بلک صارفین کے لیے گیس کی قیمت 9.5 فیصد بڑھا کر 2900 سے 3175 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی، جب کہ بجلی کے شعبے کے لیے گیس 29 فیصد مہنگی کر کے 1050 سے 1350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی، حالانکہ پیٹرولیم ڈویژن نے صرف 25 فیصد اضافے کی سفارش کی تھی۔ صنعتی پروسیسنگ کے شعبے کے لیے نرخ 2150 سے بڑھا کر 2350 روپے کر دیے گئے۔

ای سی سی کے بیان کے مطابق، اوگرا کے قانون کے تحت حکومت کے لیے لازمی ہے کہ وہ قیمتوں میں تبدیلی کا اعلان اوگرا کے تعین کے 40 دن کے اندر کرے تاکہ لاگت کی وصولی ممکن ہو سکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اصلاحاتی اہداف، خاص طور پر کیپٹو پاور ٹیرف کو معقول بنانے اور کراس سبسڈی کے خاتمے کے وعدوں کے مطابق ہے۔

ای سی سی کے مطابق، گیس قیمتوں میں یہ رد و بدل 2025-26 کے لیے اوگرا کی متعین کردہ 888.6 ارب روپے کی مجموعی آمدن کی ضروریات پوری کرے گا، جن میں سے 534.46 ارب روپے ایس این جی پی ایل اور 354.2 ارب روپے ایس ایس جی سی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ موجودہ نرخوں پر دونوں کمپنیوں کی متوقع آمدن 847.71 ارب روپے ہے، جس سے 41 ارب روپے کا خسارہ ظاہر ہوتا ہے، اور قیمتوں میں اضافہ اسی خسارے کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ پہلے ہی آئی ایم ایف سے یہ وعدہ کر چکی ہے کہ مستقبل میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے براہ راست سبسڈی فراہم کی جائے گی اور کراس سبسڈی کو ختم کیا جائے گا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں