ایران اسرائیل جنگ میں پاکستان کا کردار اور بلوچستان معمہ

رات گئے مشرق وسطی پر جنگ اور بارود کے بادل اس وقت چھٹنے لگے جب غیر متوقع طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا۔اس جنگ نے سیاسیات اور بین الاقوامی امور کے طالب علموں کے مطالعے کے لیے منفرد اور دلچسپ پہلو چھوڑے ہیں، لیکن میرے لیے جنگ زدہ اس فضاء میں پاکستان کے کردار نے حیرت ذدہ کیا ہے۔

یہ کردار ماضی سے اس لیے بھی مختلف تھا کہ حالات نے افغانستان چیپٹر کے طرز پر رخ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی زمینی حقائق اس قدر سازگار تھے۔پاکستان نے شروع سے لے کر اب تک اس پورے معمے میں انتہائی حکمت اور بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ کردار قابل ستائش بھی ہے اور قابل تعریف بھی۔ یوں کہیے کہ اپنے تئیں ایک ایسی کوشش کی ہے جس سے مستقبل قریب میں کسی نتیجے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد واضح اور دوٹوک الفاظ میں اس کی مذمت اور ایران کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ ابتدا سے موقف میں ذرا بھی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے بھی پاکستان ایران کے نیکولیئر پروگرام کی حمایت کا اعلان کرچکا ہے۔ وزیر اعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دورۂ ایران کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ پریس کانفرنس میں اس کا اعادہ بھی کیا تھا اور انہوں نے تالیاں بھی بجائی تھی۔

اس معاملے میں تشویش ناک موڑ اس وقت آیا جب امریکہ نے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کیے، مگر یہاں بھی پاکستان نے خطے کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے متوازن خارجہ پالیسی کا ثبوت دیا۔ پوری دنیا جب امریکی حملوں پر تشویش کا اظہار کر رہی تھی تب پاکستان نہ صرف مذمت کر رہا تھا بلکہ اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے رہا تھا جبکہ ایران کے حق دفاع کی حمایت بھی کر رہا تھا۔

اچھی ہمسائیگی اور خطے میں ایران کی حمایت کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان ہی تھا جس نے چین اور روس کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں جنگ بندی کے لیے قرارداد جمع کی۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ پاکستان کی اس کھلی حمایت اور موقف کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟

پاکستان اور ایران کے درمیان کئی مسائل موجود ہیں، جو وقتا فوقتا سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ ان مسائل میں چند بنیادی دہشت گرد اور علیحدگی پسند تنظیمیں بھی ہیں۔ پاکستان کا دعوی ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند مسلح گروپس بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ٹھکانے ایران میں آباد ہیں۔ ایران بھی سمجھتا ہے کہ جیش ال ع دل کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں موجود ہیں۔ یہ تنظیم بھی اپنی نوعیت میں بلوچ النسل ہے اور سرحد کے آر پار ایسے گروپوں کی حمایت اور مدد کرتی ہے۔

یہ ایران مخالف گروپ، ایران کے مشرقی صوبے سیستان اور پاکستان کے جنوب مغربی بلوچستان صوبے کی آزادی چاہتا ہے۔ ان کے یہ مقاصد دونوں حکومتوں کے لیے ایک مشترکہ ہدف بناتے ہیں۔اسی طرح بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیمیں بھی اس صوبے کی آزادی چاہتی ہیں اور کارروائیاں کر کے ایران کےسرحدی علاقوں میں پناہ لیتی رہتی ہیں۔

پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحد پہلے سے ہی غیر محفو ظ ہے جبکہ بلوچستان معمے کی وجہ سے ایران کے ساتھ سرحد بھی کوئی بہتر پوزیشن میں نہیں ہے۔ لہذہ، اس سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ایرانی حکومت کی حمایت اور تائید حد درجے تک ضروری امر ہے۔ ماضی میں پاکستان سرحد پار کارروائیوں کے الزام میں ایران کو ثبوت پیش کرتا رہا ہے، لیکن افغان حکومت کی طرح اس پر کسی طرح عمل درآمد نہیں ہوا۔

افغانستان جنگ میں امریکی حمایت اور پس پشت طا ل ب ا ن کی تائید کے پیچھے بھی ایسی حکومت کا قیام تھا جس سے مغربی سرحد پر مخاصمت ختم ہوجائے اور پاکستان کی توجہ بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد پر پوری طرح مرکوز ہوجائے۔ مستقبل کی اس سوچ پر کاری ضرب اس وقت لگی جب پاکستان میں سرحدپار کارروائیاں شروع ہوئی اور افغان عبوری حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو مستقل لکیر ماننے سے انکار کیا۔

اسی لیے جنگ کے بعد پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی وجہ سے ایران کے ساتھ معانت پر مبنی مستقبل کے تعلقات بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے تدارک میں معنی خیز ثابت ہوسکتے ہیں۔اس کی ایک جھلک ترکیہ کے خلاف کردوں کے ہتھیار ڈالنے میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ شمالی شام کے کردوں نے نئی حکومت کے ساتھ ساز باز شروع کی اور شمالی عراق کے کردوں کو حملوں کے ذریعے کمزور کیا گیا۔ نتیجے کے طور پر ان دونوں فرنٹس کو آپریٹ کرنے والے ترکیہ کے کردوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

ایران کی تائید اور حمایت حاصل رہی تو یہاں بھی ان تنظیموں کے لیے ناموافق حالات تخلیق کیے جاسکتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں