بیرون ملک مقیم پاکستانی کاٹلنگ کو ‘ماڈل تحصیل’ کیسے بنا رہے ہیں؟

سات سمندر پار بسنے کے بعد بھی انسان اپنی مٹی کی محبت میں کھینچا چلا آتا ہے۔وطن کی محبت شاید انسان کی خمیر کا حصہ ہے یا اس کی فطرت میں اسے گوندھا گیا ہے۔ایسی ہی ایک کہانی خیبرپختونخواء کے ضلع مردان کی تحصیل کاٹلنگ سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک پاکستانیوں کی ہے۔

مزدوریوں کی غرض سے اپنے علاقے کو خیرآباد کہنے والے ان پاکستانیوں نے اپنی سرزمین سے عشق ومحبت کی زبانی جمع خرچ پر اکتفانہیں کیا، بلکہ کاٹلنگ کو ‘ماڈل تحصیل’بنانے کاوہ ذمہ اٹھایا ہے، جو شاید حکومتوں کے کرنے کا کام تھا۔

دبئی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرنےوالے سجاد مہمند کا شمار اسی گروپ کے سرکردہ ممبران میں ہوتا ہے۔ یہ سجاد مہمند ہی تھے، جنہوں نے ان افراد کو جمع کیا ۔باقی علاقوں کی طرح تحصیل کاٹلنگ کے زیادہ تر نوجوان بھی دبئی، ملائیشیاء، قطر اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں محنت مزدوری کے لیے جانے کے بعد وہاں رہائش پذیر ہیں۔ان افراد کو آپس میں جوڑنے اور گاؤں کے تمام معاملات سے باخبر رکھنے کے لیے پہلے پہل سجاد مہمند نے ایک واٹس ایپ گروپ بنام’آن لائن حجرہ ‘ بنایا۔ ابتدا میں یہ گروپ محض ان کے گاؤں تک محدود تھا۔

گزشتہ سال سجاد مہمند نے یمن، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دوروں کے دوران تحصیل کاٹلنگ کے تقریبا تمام سمندر پار پاکستانیوں سے ملاقاتیں کیں۔ انہیں ‘حجرہ گروپ ‘ میں شمولیت کی دعوت دی اور اسے وسیع بنایا۔اس وقت اس گروپ میں ایک ہزار دس ممبران موجود ہیں، جن میں تمام کا تعلق تحصیل کاٹلنگ سے ہے۔

سجاد مہمند نے تاشقند اردو کو بتایا کہ’میرے گاؤں میں کل بیس سے تین گھرانے آباد ہیں اور یہاں کے زیادہ تر نوجوان بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان دوستوں سے شاذ ہی ملاقات ہوتی تھی۔ ایک دوسرے سےبے خبر گاؤں آتے تھے اور واپسی کی راہ اختیار کرلیتے تھے۔ اس وجہ سے میں نے یہ’آن لائن حجرہ گروپ’ بنایا، تاکہ ایک طرف ایک دوسرے سے باخبر رہیں جبکہ دوسری طرف مقامی حجرہ کی تشنگی دور کرتے ہوئے گپ شب کا سلسلہ چلتارہے۔’

گزرتے وقت کے ساتھ سجاد مہمند کے اس حجرہ گروپ میں تحصیل کاٹلنگ کے تیس گاؤں کے بیرون ملک پاکستانی شامل ہوگئے۔آپسی ربط کے لیے قائم ہونے والا یہ گروپ وقت کے ساتھ صرف رابطہ کاری اور معلومات رسانی کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ تحصیل کاٹلنگ کے لیے فلاحی تنظیم کی صورت اختیارکرگیا۔علاقےکی زیبائش ، ایمبولینس سروس کی دستیابی، مفت علاج کی سہولت ، نادار بچوں کو تعلیمی مواقع، سڑکوں کی تزئین و آرائش اور ایسے کئی سرگرمیاں کاٹلنگ کے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تعاون سے اس علاقے کو ماڈل تحصیل بنا رہی ہے۔

سجاد مہمند نےتاشقند اردو کوبتایا کہ ‘یہ گروپ فعال ہونے کے بعد ہم نے اپنی تحصیل کے لیے خاص ایمبولینس خریدنے کی تجویز پیش کی، اگلے لمحے دوستوں نے تعاون کرتے ہوئے مطلوبہ رقم پوری کی۔یہ ایمبولینس صبح شام کسی بھی ایمرجنسی کی صورت ہمہ وقت بلامعاوضہ اپنی سروس مہیا کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔’

گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں اسی حجرہ گروپ کے تعاون سے کاٹلنگ کے بتیس پرائمری سکولوں میں سولہ سو بچوں میں سردیوں کا یونیفارم تقسیم کیا گیا۔یونیوفارم کی تقسیم کے دوران حجرہ گروپ کے ممبران نے دیکھا کہ بچوں کے پیروں پر جوتے یا تو ہے ہی نہیں یا بہت پرانے ہیں۔ لہذہ، 454 طلبہ کے لیے نئی جوتیاں خریدی گئیں۔

سجاد مہمند کہتے ہیں کہ’اس کے بعد رمضان پیکج چلایا۔ عید پر یتیموں، بیواؤں اور ناداروں میں رقم تقسیم کی۔ بیواؤں کے لیے 50 کلو گندم کا بندوبست کیا۔اپنے لیے علیحدہ ٹرانسفرمر خریدا ہے۔ جہاں بھی بجلی خراب ہوتی ہے،وہ ٹھیک کرتے ہیں۔ رمضان میں سستی روٹی تندور لگایا۔ معذور افراد میں وہیل چئیر تقسیم کیے۔ مختلف ڈاکٹروں کے تعاون سے مریضوں کا چیک اپ کراتے ہیں۔’

حجرہ گروپ کی فلاحی سرگرمیاں صرف ان روایتی کاموں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کی طرف سے تحصیل کاٹلنگ کو خوبصورت اور جدید بنانے کے لیے بڑے شہروں کی مانند رہنماسائن بورڈ لگائے گئے ہیں۔سجاد مہمند کا کہنا ہے کہ ‘ کاٹلنگ کی مختلف سڑکیں نیلی، سرخ، سبز اور سیاہ رنگوں کے حساب سے تقسیم کی گئی ہیں۔ہر رنگ کی سڑک پرواقع گھروں کو نمبرز دیے گئے ہیں، جس سے کسی کے ہاں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔مختلف علاقوں کو جوڑنے والی سڑکوں کے کنارے اسماء حسنی اور اسماءمحمد (ص) آویزاں کیے گئے ہیں۔’

یعنی تحصیل کاٹلنگ اس وقت مختلف رنگوں میں بٹی ہوئی ہے۔جابجا مختلف پھولوں سے سجے گملے اور کیاریاں نظر آتی ہیں۔ سجاد مہمند کے مطابق نہرسے متصل گھروں کو بطخ خرید کردیے گئے۔مختلف سڑکوں کے کنارے کرسیاں اورمیز نصب کیے گئے۔ دیہی تہذیب کے نمائندہ مٹکے بھی وہاں موجود ہوتے ہیں۔

حجرہ گروپ کی ممبرشپ کےلیے لازمی ہے کہ فرد کا تعلق تحصیل کاٹلنگ سے ہو۔ اس وجہ سے مالی معاونت بھی یہاں کے افرادسے ہی قبول کی جاتی ہے۔

سجاد مہمند بتاتے ہیں کہ’ان کاموں کو سرانجام دینے کےلیے ہم نے گاؤں کے فعال لوگوں کو اپنےساتھ منسلک کیا ہے۔ مجھے کسی نے آٹھ کنال کی زمین دی تھی، جس پر اس وقت ‘حجرہ گروپ خپلہ مدرسہ’ تعمیر ہورہا ہے۔حجرہ گروپ میں پیغام بھیجا کہ مدرسے کی تعمیرکے لیے رقم درکار ہے۔ پانچ گھنٹوں میں نو لاکھ روپے جمع ہوگئے تھے۔ابھی کسی نے ایک کنال کی زمین عطیہ کی ہے، جہاں ایک ‘خیراتی اسپتال’ تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔’

یہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں اپنے قیام سے لے کر اب تک حجرہ گروپ کی فلاحی کارکردگی ہے، جس کا آغاز 2023 کے اواخر میں دو لڑکیوں کے جہیز سے ہوا تھا۔ چند گھنٹوں میں لاکھوں کا جمع ہونا سجاد مہمند کے حجرہ گروپ پر علاقہ مکینوں کے اعتماد کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ’سڑک کی تعمیر اور گیس کی سہولت دو ایسے کام ہیں ، جس کو کرنے سے فی الحال ہم قاصر ہیں۔ تاہم، باقی تمام صورتوں میں ہماری تحصیل کسی حکومتی نمائندے کی محتاج نہیں رہی ۔’

Author

اپنا تبصرہ لکھیں