دنیا ایک سنگین ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے جسے “موسمیاتی تبدیلی” (Climate Change) کہا جاتا ہے۔ عالمی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دہائیوں میں درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا، جس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہوں گے۔
پاکستان، جو دنیا میں گلوبل وارمنگ کا صرف 0.9% ذمہ دار ہے، لیکن اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق وہ ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، غیر متوقع بارشیں، شدید گرمی کی لہر، خشک سالی، فصلوں کی تباہی اور زمینی کٹاؤ جیسے خطرات واضح علامات ہیں۔
شجرکاری: ایک قدرتی حل
اس تناظر میں “شجرکاری” نہایت سادہ مگر انتہائی مؤثر حل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ درخت نہ صرف فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں بلکہ زمین کو مضبوطی، درجہ حرارت میں کمی، اور بارشوں کے نظام کو متوازن رکھنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
بین الاقوامی ماحولیاتی ادارے Intergovernmental Panel on Climate Change (IPCC) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، شجرکاری اور جنگلات کی بحالی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سب سے مؤثر قدرتی طریقوں میں شامل ہیں۔
پاکستان میں بھی “ٹین بلین ٹری سونامی” جیسے منصوبے اس امر کا ثبوت ہیں کہ حکومتی سطح پر شجرکاری کو سنجیدہ لیا جا رہا ہے، لیکن یہ کوششیں عوامی شمولیت کے بغیر دیرپا ثابت نہیں ہو سکتیں۔
کہاں اور کس قسم کے درخت لگائے جائیں؟
درخت لگانے کے لیے کسی ایک مخصوص علاقے تک محدود رہنا مؤثر نہیں۔ پورے ملک میں، مختلف جغرافیائی حالات کے مطابق، موزوں اقسام کے درخت لگانے کی ضرورت ہے
علاقہ :تجویز کردہ درخت
پہاڑی علاقے: (KPK, GB) چیڑ، دیودار، پائن
میدانی علاقے (پنجاب، سندھ):نیم، شیشم، ککر، بیری
شہری علاقے:گل مہر، اشوکا، کنیر، جاپانی شہتوت
ساحلی علاقے:مینگرووز (Mangroves)
سائنسی تحقیق
پاکستان فورسٹری انسٹیٹیوٹ پشاور کے مطابق:
“سندھ میں مینگرووز کی شجرکاری نے ساحلی کٹاؤ کو 30 فیصد تک کم کیا ہے اور سمندری حیات کی افزائش میں بھی بہتری آئی ہے۔”
عوام اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری
حکومت کی جانب سے شجرکاری مہمات کے آغاز خوش آئند ہیں، مگر انہیں صرف افتتاحی تقاریب تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی نگرانی، دیکھ بھال اور پائیداری پر زور دینا ہوگا۔ بلدیاتی ادارے، تعلیمی ادارے، اور نجی کمپنیاں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عوام کو چاہیے کہ ہر گھر، مسجد، اسکول، کالج، دفتر، اور پارک میں کم از کم ایک درخت لگانے کا عزم کریں۔ شجرکاری کو صرف “موسمی مہم” کے بجائے “قومی مزاج” میں شامل کیا جائے۔
ایک پائیدار مستقبل کی امید
موسمیاتی تبدیلی ایک خاموش قاتل ہے جو زمین کو آہستہ آہستہ نگل رہا ہے۔ پاکستان جیسے ملک، جو زراعت پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے شجرکاری صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ معاشی بقا کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر ہم نے آج شجرکاری کو سنجیدہ نہ لیا تو کل نہ بارش ہو گی، نہ زرخیز زمین، نہ پینے کا پانی، نہ فصلیں۔
لہٰذا، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم شجرکاری کو قومی تحریک بنائیں۔ ہمیں درختوں کو صرف سایہ یا پھل دینے والی مخلوق نہیں بلکہ ایک “ماحولیاتی سپاہی” کے طور پر اپنانا ہو گا۔ کیونکہ درخت صرف زمین کو نہیں، انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں۔