پاکستان نیوی ڈاکیارڈ کے خوبصورت ساحلی علاقے میں نویں کثیرالقومی میری ٹائم مشق ’امن 25‘ کا شاندار آغاز ہوگیا۔ اس مشق میں 60 ممالک شریک ہیں، جن کے جھنڈے لہرائے جانے کے بعد ایک پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر مشق میں شامل مختلف ممالک کی بحری افواج کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی اور کیک کاٹ کر باہمی تعاون اور دوستی کے تسلسل کا عزم دہرایا۔
تقریب کے دوران کموڈور، عمر فاروق نے چیف آف نیول اسٹاف ،ایڈمرل نوید اشرف کا خیرمقدمی پیغام پڑھ کر سنایا۔ ایڈمرل نوید اشرف نے تمام شریک ممالک کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ، 2007 میں شروع ہونے والی یہ مشق اب ایک مستقل روایت بن چکی ہے، جو سمندری سیکیورٹی اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے خطے میں پاکستان نیوی کے کلیدی کردار اور بحیرہ عرب میں میری ٹائم سیکیورٹی گشت سمیت دیگر اقدامات پر روشنی ڈالی۔
نیول چیف نے مزید کہا کہ، بین الاقوامی برادری کے اعتماد کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک بحریہ نے اس سال ’امن ڈائیلاگ‘ کا آغاز بھی کیا ہے، جو عالمی سطح پر میری ٹائم سیکیورٹی اور امن کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان فلیٹ کمانڈر ریئر، ایڈمرل عبدالمنیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، مشترکہ میری ٹائم سیکیورٹی کو فروغ دینے میں اس مشق کا کردار نمایاں ہے۔ انہوں نے شرکا کے درمیان باہمی تعاون اور دوستی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ، یہ مشق سمندری امن و استحکام کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔

امن مشق کے نویں ایڈیشن میں 11 سے 12 بحری جہاز شرکت کر رہے ہیں، جن میں سے کچھ کراچی بندرگاہ پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ دیگر راستے میں ہیں۔ مختلف ممالک کے بحری بیڑے اس مشق میں بھرپور شرکت کر رہے ہیں، جن میں چین کے پلان باؤٹو 133 اور پلان گاؤیوہو، سعودی عرب کے ایچ ایم ایس جازان اور ایچ ایم ایس ہیل شامل ہیں۔
دیگر جہازوں میں متحدہ عرب امارات کا ابوظبی (سی وی ٹی) پی 191، ملائیشیا کا کے ڈی ٹیرنگانو-174، جاپان کا جے ایس مراسامے، سری لنکا کا ایس ایل این ایس وجے باہو، انڈونیشیا کا کے آر آئی بونگ ٹومو-357، ایران کا جمران، بنگلہ دیش کا بی این ایس سومدورا جوئے، امریکا کا لیوس بی پلر اور عمان کا آر این او وی سادھ شامل ہیں۔ ترکیہ بھی ایک بحری جہاز کے ساتھ مشق میں حصہ لے رہا ہے۔
9 سے 10 فروری تک ہونے والے امن ڈائیلاگ میں اسپیشل آپریشن فورسز اور مختلف ممالک کے مبصرین بھی شرکت کر رہے ہیں۔ یہ ڈائیلاگ بین الاقوامی سطح پر سمندری سیکیورٹی کو فروغ دینے اور مشترکہ تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔
بنگلہ دیش کے چیف آف نیول اسٹاف، ایڈمرل نظم الحسن، جو اپنے بحری بیڑے کے ساتھ پاکستان پہنچے ہیں، نے اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، جنرل ساحر شمشاد مرزا اور چیف آف آرمی اسٹاف، جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں نیول ہیڈ کوارٹرز میں اپنے ہم منصب، ایڈمرل نوید اشرف سے بھی ملاقات کی۔
ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، مشترکہ بحری تعاون اور باہمی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کی بحری افواج نے مشترکہ مشقوں، تربیتی پروگراموں اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
بنگلہ دیشی نیول چیف کا دورہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی عسکری روابط کا تسلسل ہے۔ 14 جنوری کو بنگلہ دیش کی مسلح افواج کے سینئر افسران نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس میں دفاعی تعاون اور خطے میں امن کے لیے باہمی اشتراک پر اتفاق کیا گیا تھا۔
مبصرین اس پیش رفت کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے عسکری اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط مستقبل میں دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔
یہ دورے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاریخی اختلافات کے باوجود، حالیہ فوجی تعاون کو تعلقات کے نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔