پاکستان میں 85 واں یوم پاکستان انتہائی جوش و خروش اور ملی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ اس موقع پر مزار قائد اور مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریبات بھی منعقد کی گئیں۔
اسلام آباد میں ایوان صدر میں یوم پاکستان کی خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں غیر ملکی سفرا اور اعلیٰ حکومتی و عسکری شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کے دوران مسلح افواج کی شاندار پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بری، بحری اور فضائیہ کے چاق و چوبند دستوں نے شرکت کی۔ تینوں افواج کے دستوں نے مارچ پاسٹ کیا اور قومی پرچم کو سلامی پیش کی۔ تقریب میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری روایتی بگھی میں سوار ہوکر تقریب میں پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ تقریب میں بگل بجا کر صدر کی آمد کا اعلان کیا گیا، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف اور مسلح افواج کے سربراہان اسٹیج پر موجود رہے۔
یوم پاکستان کی پریڈ میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے زبردست فضائی مظاہرہ پیش کیا، جس سے شرکا داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ شیر دل فارمیشن نے فضا میں دلفریب کرتب دکھائے، جبکہ جے ایف 17 تھنڈر، ایف 16، جے 10 سی اور میراج طیاروں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا، جس سے دشمن پر لرزہ طاری ہوگیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، یوم پاکستان ہمیں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے ایک آزاد ریاست کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ ہم نے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک کی حفاظت کو ہر حال میں یقینی بنایا۔ بھارت پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ہم اس کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ، کشمیری عوام کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں، اور ان شاء اللہ ایک دن کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔ہمیں ملک کو ایک مضبوط اور ترقی یافتہ اسلامی فلاحی مملکت بنانا ہے، جہاں ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔

صدر نے مزید کہا کہ، ففتھ جنریشن وار فیئر ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن پاکستانی قوم اس کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ، پاکستان کا سفر ایک عظیم استقامت اور مضبوط عزم کی کہانی ہے۔ہم نے جوہری طاقت بن کر دنیا میں اپنی اہمیت منوائی، لیکن ہمارا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ملک کو مزید ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔شہدا کی قربانیوں کو سلام، جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے یوم پاکستان کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد دی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ، 23 مارچ 1940 وہ دن تھا جب پاکستان کے قیام کی بنیاد رکھی گئی، اور آج پاکستان جمہوریت اور اسلام کے اصولوں کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
ادھر کراچی میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے مزار قائد پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ، ملکی مفادات کو سیاسی اختلافات پر ترجیح دینی چاہیے اور دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ، سندھ پہلا صوبہ تھا جس نے قرارداد پاکستان کی منظوری دی تھی اور ہمیں قائداعظم کے وژن کے مطابق ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یوم پاکستان کی مناسبت سے بانیان پاکستان اور شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ، 23 مارچ ہمیں پاکستان کے قیام کے مقاصد کی یاد دلاتا ہے۔یہ دن اس عزم کا اعادہ کرنے کا موقع ہے کہ، ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کریں گے۔پاکستان دنیائے اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز رکھتا ہے، اور ہمیں اس کامیابی کو مزید آگے لے جانا ہوگا۔ ہمیں غربت کے خاتمے اور سماجی مساوات کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے یوم پاکستان کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ، پاکستان قربانی اور جدوجہد کی بدولت حاصل ہوا ہے، اور ہم اس کی حفاظت کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔بلوچستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں، ہم امن و امان ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔
لاہور میں مزار اقبال پر بھی یوم پاکستان کی مناسبت سے گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد کی گئی۔
پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے مزار پر سلامی پیش کی اور نئے گارڈز نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل اختر عمران سدوزئی نے مزار پر پھول چڑھائے، فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات قلمبند کیے۔