پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 74 سہولت بازاروں کو مکمل فعال رمضان بازاروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ اقدام 14 فروری سے نافذ العمل ہے اور اس کا مقصد رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ مناسب نرخوں پر فراہم کرنا ہے۔
یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر کیا گیا، جبکہ پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کے چیئرمین افضل کھوکھر نے رمضان بازاروں کے انتظامات کی نگرانی کی۔ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نوید رفاقت نے اتوار کے روز لاہور اور فیروزوالہ سمیت مختلف مقامات پر اچانک دورے کیے۔ ٹاؤن شپ، مدینہ مارکیٹ، مادرِ ملت، نشتر کالونی، برکی، شاہدرہ اور فیروزوالہ کے بازاروں میں صفائی، سکیورٹی، معیار کی جانچ اور کیمروں کے نظام کا جائزہ لیا گیا۔
حکام کے مطابق، 16 بنیادی اشیائے ضروریہ ڈپٹی کمشنر کے مقرر کردہ نرخوں سے 10 فیصد تک کم قیمت پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ 10 کلو آٹے کا تھیلا 850 روپے جبکہ چینی 140 روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہے۔
تمام رمضان بازاروں کی نگرانی کے لیے صوبائی سطح پر کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے تاکہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔ صوبے بھر میں متعلقہ عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور اعلیٰ افسران کو باقاعدہ فیلڈ وزٹ کی ہدایت کی گئی ہے۔
شہری راشن کارڈ اور رمضان نگہبان کارڈ کے ذریعے خریداری کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ کلومیٹر کے دائرے میں مفت ہوم ڈیلیوری کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ بزرگ شہریوں کی سہولت کے لیے خصوصی کیمپوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل نوید رفاقت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام رمضان کے دوران سستی اور معیاری اشیا کی فراہمی اور شفاف نظام کو یقینی بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔