’70 فیصد مظاہرین کو غیر ملکی عناصر نے بھڑکایا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں نے تشدد کو ہوا دی’، ایرانی وزیرِ خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں غیر ملکی سفارتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جاری احتجاجی مظاہرے ابتدا میں پُرامن تھے اور حکومت نے مظاہرین کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے معاشی اصلاحات کا آغاز بھی کیا تھا۔

ان کے مطابق، دسمبر کے اختتام تک یہ مظاہرے محدود نوعیت کے تھے، تاہم جنوری کے آغاز میں صورتِ حال نے نیا رخ اختیار کیا اور نئے عناصر اور دہشت گرد گروہوں کی شمولیت کے باعث احتجاج پرتشدد اور خونریز ہو گیا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ بعض مظاہرین کو اسلحہ فراہم کیا گیا اور انہوں نے نہ صرف سکیورٹی اہلکاروں بلکہ عام شہریوں پر بھی فائرنگ کی۔ ان کے بقول، اس کا مقصد جانی نقصان میں اضافہ کر کے امریکہ کو مداخلت کا جواز فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں نے تشدد کو مزید ہوا دی اور کچھ عناصر کو اشتعال دلانے کا سبب بنیں۔

وزیر خارجہ کے مطابق، داعش اور دیگر دہشت گرد عناصر نے سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا، بعض کے گلے کاٹے گئے اور کچھ کو زندہ جلا دیا گیا۔ اس دوران سرکاری اور نجی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا، جن میں دکانیں، ہسپتال، بسیں اور حتیٰ کہ 350 مساجد شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمی افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا اور بعض لوگوں کو براہِ راست فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا، جبکہ کچھ افراد کو بھاری رقوم دے کر پولیس اسٹیشنوں اور دیگر حساس مقامات پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

عراقچی نے بتایا کہ حکومت نے سکیورٹی فورسز تعینات کر کے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کیں اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی گرفتار شدہ افراد کے اعترافی بیانات اور شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں گے اور تمام ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مظاہروں میں شامل تقریبا70 فیصد افراد کو غیر ملکی عناصر نے بھڑکایا، جبکہ 30 فیصد مظاہرین پُرامن تھے اور ان کے مطالبات جائز تھے۔ حکومت ان پُرامن مظاہرین کے مطالبات کو تسلیم کرتی ہے اور ان کے لیے قانونی اور عدالتی راستے کھلے رکھے گئے ہیں۔

وزیر خارجہ نے یقین دلایا کہ ملک کی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنا لیا گیا ہے اور جلد ہی انٹرنیٹ سروس بھی بحال کر دی جائے گی تاکہ سرکاری ادارے اور سفارت خانے معمول کے مطابق کام کر سکیں۔

عباس عراقچی نے اپنے خطاب کے اختتام پر سفارتکاروں اور عوام کا صبر و تحمل پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے حالات پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور پُرامن مظاہرین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں