ماہرینِ فٹنس کا کہنا ہے کہ اگر آپ جسمانی توازن، مجموعی طاقت اور حرکات میں ہم آہنگی بہتر بنانا چاہتے ہیں تو یک طرفہ ورزشیں، یعنی ایسی مشقیں جن میں ایک وقت میں جسم کے صرف ایک حصے کو استعمال کیا جاتا ہے، نہایت مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر لوگ بیٹھک، وزن اٹھانے اور دھکا لگانے جیسی روایتی مشقیں کرتے ہیں، جو یقینا فائدہ مند ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق جسم کے ایک حصے کو الگ سے کام کرانے والی ورزشیں اضافی فوائد فراہم کرتی ہیں۔
فٹنس ٹرینرز کے مطابق، ہماری روزمرہ زندگی کے زیادہ تر کام ایک ہاتھ یا ایک ٹانگ سے انجام پاتے ہیں، جیسے خریداری کا سامان اٹھانا، سیڑھیاں چڑھنا یا ایک طرف وزن لے کر چلنا۔ اگر جسم کے دونوں حصوں کی طاقت برابر نہ ہو تو کمزور حصہ مزید کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یک طرفہ ورزشیں اس عدم توازن کو دور کرنے، کمزور حصے کو مضبوط بنانے اور پیٹ کے اندرونی پٹھوں کو فعال رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان مشقوں کے کئی فوائد ہیں، جن میں پٹھوں کے عدم توازن کی نشاندہی، توازن اور ہم آہنگی میں بہتری، اندرونی پٹھوں کی مضبوطی اور روزمرہ سرگرمیوں میں آسانی شامل ہیں۔ اگر مکمل یک طرفہ مشقوں کے لیے وقت میسر نہ ہو تو عام ورزش کے معمول میں ایک یا دو ایسی حرکات شامل کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین 30 سے 45 منٹ پر مشتمل ایک درمیانی شدت کے معمول کی تجویز دیتے ہیں، جس میں تمام حرکات پہلے جسم کے ایک حصے سے مکمل کی جائیں اور پھر دوسرے حصے سے دہرائی جائیں۔ پورا سلسلہ دو سے تین مرتبہ دہرایا جا سکتا ہے۔
پہلی مشق پیچھے کی جانب قدم لے جا کر بیٹھنے کی حرکت ہے، جس میں ایک قدم پیچھے لے جا کر دونوں گھٹنے موڑے جاتے ہیں اور پھر اگلے پاؤں کے زور سے واپس سیدھا کھڑا ہوا جاتا ہے۔ یہ رانوں اور کولہوں کے پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے اور ہر طرف سے آٹھ سے بارہ مرتبہ دہرائی جا سکتی ہے۔
دوسری مشق ایک ٹانگ کے سہارے کولہے اوپر اٹھانے کی ہے۔ کمر کے بل لیٹ کر ایک ٹانگ اوپر اٹھائیں اور دوسری ٹانگ کے زور سے کولہے کو اوپر کی طرف اٹھائیں۔ یہ کولہوں اور ران کے پچھلے حصے کے پٹھوں کو مضبوط بناتی ہے۔
تیسری حرکت میں ایک ہاتھ سے وزن کو کندھے کے پاس رکھ کر سیدھا اوپر اٹھایا جاتا ہے اور قابو کے ساتھ واپس نیچے لایا جاتا ہے۔ یہ کندھوں اور بازوؤں کی طاقت بڑھاتی ہے۔ اسی طرح ایک ہاتھ سے بازو موڑ کر وزن کو کندھے تک لانا اور آہستگی سے نیچے کرنا بازو کے اگلے پٹھوں کے لیے مفید ہے۔
کمر کے پٹھوں کے لیے آگے جھک کر ایک ہاتھ سے وزن کو کولہے کی طرف کھینچنا اور واپس نیچے کرنا مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ پیٹ کے پٹھوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک طرف لیٹ کر بازو اور پاؤں کے سہارے جسم کو سیدھا اوپر اٹھا کر کچھ دیر برقرار رکھنا مفید ہے۔
آخری مشق میں ایک ہاتھ میں بھاری وزن پکڑ کر سیدھے کھڑے ہو کر چلنا شامل ہے۔ اس دوران جسم کو متوازن رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ حرکت اندرونی پٹھوں، اوپری کمر اور گرفت کی طاقت کو بہتر بناتی ہے۔
ماہرین ہدایت کرتے ہیں کہ ہر یک طرفہ حرکت سے پہلے اس کی عام دو طرفہ شکل میں مہارت حاصل کر لی جائے۔ توجہ برقرار رکھنے کے لیے نظریں ایک جگہ مرکوز رکھیں اور ضرورت پڑنے پر دیوار یا میز کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یک طرفہ ورزشیں نہ صرف جسمانی طاقت بڑھاتی ہیں بلکہ توازن، ہم آہنگی اور پٹھوں کی برابری کو بھی بہتر بناتی ہیں۔ باقاعدگی سے ان مشقوں کی عادت ڈالنے سے روزمرہ زندگی کے کام زیادہ آسان اور محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے صرف وزن کم کرنا کافی نہیں، بلکہ جسم کے ہر حصے کو متوازن اور مضبوط رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔