3دسمبر کو، عظیم ازبک اسکالر اور حکمران میرزا اولگ بیگ کی 630ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی تقریب بیلاروس کے دارالحکومت مینسک کے ہاؤس آف فرینڈ شپ میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں ازبکستان کے سفیر، رحمت اللہ نذروف نے انسانی اور ثقافتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے اور عوام کے درمیان دوستی کو مزید گہرا کرنے میں مدد دے گی۔
اولگ بیگ کا دورِ حکمرانی سیاسی، اقتصادی استحکام کا دور تھا: بیلاروس اسکالرز
بیلاروس کے اسکالرز نے میرزا اُلُغ بیگ کے تاریخی اور سائنسی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اُولگ بیگ کے 40 سالہ دورِ حکمرانی کو سیاسی اور اقتصادی استحکام کا دور قرار دیا، جس میں سمرقند کو تعلیم، سائنس اور ثقافت کا اہم مرکز بنایا گیا۔ اُولگ بیگ کی علمِ فلکیات، ریاضی، تاریخ، موسیقی اور شاعری میں خدمات کو عالمی سائنس کے لیے ایک سنگِ میل کہا گیا۔
ثقافتی ورثے کی علامت
رحمت اللہ نذروف نے کہا کہ میرزا ولگ بیگ کے کارنامے ازبکستان کی قومی شناخت کا ایک اہم حصہ ہیں، جو ملک کی عظیم تاریخ اور روحانی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تاریخی اقدار اور تعاون کو اجاگر کرنے کی ایک کاوش تھی، جو مستقبل میں مزید مضبوط روابط کا سبب بنے گی۔