جبوتی اور یمن کے ساحلوں پر تارکین وطن کی 4کشتیاں ڈوبنے سے 186 افراد لاپتہ

خلیج عدن میں انسانی المیہ نے ایک بار پھر سر اٹھایا، جب تارکین وطن کو لے جانے والی چار کشتیاں جبوتی اور یمن کے ساحلوں پر ڈوب گئیں، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 186 سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) نے جمعرات کی رات پیش آنے والے اس دلخراش واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تارکین وطن ایتھوپیا سے بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلے تھے، لیکن قسمت نے انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیا۔
IOMکے مطابق، دو کشتیاں یمن کے ساحلوں پر ڈوبیں، جن میں سے ایک میں 30 اور دوسری میں تقریباً 150 افراد سوار تھے۔ عملے کے پانچ یمنی ارکان سمیت زیادہ تر مسافر ایتھوپیا کے تھے، جن میں 57 خواتین بھی شامل تھیں۔ IOM کے کنٹری چیف آف مشن عبدالستور ایسوئیف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم 186 افراد کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو بدقسمتی سے سمندر میں ڈوب گئے۔
جبوتی کے ساحل پر بھی دو کشتیاں تیز ہواؤں کے باعث الٹ گئیں، جس کے نتیجے میں ایک یا دو تارکین وطن کی جانیں ضائع ہوئیں، تاہم دیگر کو بچا لیا گیا۔ عبدالستور ایسوئیف نے بتایا کہ IOM کی ٹیمیں مقامی حکام کے ساتھ مل کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں، لیکن حالات کی سنگینی کے پیش نظر امیدیں کم ہیں۔
یہ المناک واقعہ اس خطرناک راستے پر پیش آنے والے متعدد واقعات میں سے ایک ہے، جہاں غربت اور تنازعات سے فرار ہونے والے افریقی تارکین وطن خلیجی ممالک میں بہتر زندگی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ ماضی میں بھی اس راستے پر متعدد کشتیاں ڈوب چکی ہیں، جن میں سینکڑوں تارکین وطن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
2018 میں، جبوتی کے ساحل پر دو کشتیاں ڈوبنے سے 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح، 2021 میں یمن کے ساحل پر ایک کشتی ڈوبنے سے 30 سے زائد تارکین وطن لقمہ اجل بن گئے۔ ان واقعات کے باوجود، یہ خطرناک سفر جاری ہے، جس کی بنیادی وجہ غربت، تنازعات اور بہتر مستقبل کی تلاش ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ تارکین وطن انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں کا کھلونا بنتے ہیں، جو انہیں غیر محفوظ کشتیوں میں سوار کر کے خطرناک سمندری راستوں سے لے جاتے ہیں۔ یہ اسمگلر اکثر تارکین وطن سے بھاری رقم وصول کرتے ہیں اور انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں