پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کےمطابق، صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کیے گئے دو علیحدہ آپریشنز میں مجموعی طور پر 35 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے 12 اہلکار بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ترجمان کے مطابق، پہلا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع باجوڑ میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، جہاں سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں 22 شدت پسند مارے گئے۔ دوسرا آپریشن ضلع جنوبی وزیرستان میں کیا گیا، جس میں 13 مزید شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ مارے گئے شدت پسندوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا، اور یہ افراد ان علاقوں میں متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث رہے تھے۔ فوج کے بیان کے مطابق، ہلاک ہونے والے شدت پسند ’’انڈین اسپانسرڈ‘‘ تھے، تاہم انڈین حکام ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ انٹیلیجنس رپورٹس سے تصدیق ہوتی ہے کہ ان کارروائیوں میں افغان شہری بھی شامل تھے اور شدت پسند پاکستان پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کو افغان عبوری حکومت سے توقع ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔