تاجکستان کی حکومت نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوب مغربی علاقے ختلان میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں تین چینی ورکر ہلاک ہو گئےہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ افغانستان کی حدود سے کیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق حملہ بدھ کی رات ایک کیمپ پر کیا گیا جہاں کمپنی کے ملازمین قیام پذیر تھے۔ بیان میں کہا گیاکہیہ حملہ دھماکا خیز مواد سے لیس ایک بغیر پائلٹ طیارے کے ذریعے کیا گیا۔
وزارت نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی تاجکستان کی بھرپور کوششوں کے باوجود افغانستان کی سرزمین پر سرگرم مجرمانہ گروہ اب بھی تخریبی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغان حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی طرف کی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
تاجکستان میں چینی کارکن کان کنی اور تعمیراتی منصوبوں میں سرگرم ہیں اور افغانستان کے ساتھ سرحدی خطے میں وقتاً فوقتاً کشیدگی سامنے آتی رہتی ہے۔ گزشتہ ہفتے تاجک فورسز نے اسی علاقے میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے مشتبہ منشیات اسمگلروں کو ڈرون کے ذریعے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس سے قبل اگست میں تاجک سرحدی محافظوں اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔
چینی کارکنوں کی ہلاکت ایسے وقت میں پیش آئی ہے جب جمعرات کو اجتماعی سلامتی کے معاہدہ تنظیم (CSTO) کا سربراہی اجلاس کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہو رہا ہے، جس میں روس، بیلاروس، قازقستان، کرغیزستان اور تاجکستان کے رہنما شریک ہیں۔ تاجکستان ماضی میں بھی افغانستان کے ساتھ اپنی طویل سرحد کی سکیورٹی کے لیے اس تنظیم سے اضافی تعاون کی درخواست کرتا آیا ہے۔