ستائیسویں ترمیم کے بعد شریعت اپیلیٹ بنچ کے مسائل

ہائی کورٹ میں شریعت بنچ اور وفاقی شرعی عدالت

1979ء میں حدود قوانین کے نفاذ کے ساتھ ہائی کورٹ کی سطح پر ”شریعت بنچ“ بنائے گئے تھے؛ ان شریعت بنچوں کے پاس دو قسم کا اختیار تھا: ایک، اگر حدود قوانین میں سیشن کی عدالت نے کوئی فیصلہ دیا ہے، تو اس کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں شریعت بنچ کے سامنے آتی؛ دو، اگر کوئی شہری کسی قانون کو اسلامی احکام سے متصادم سمجھتا، تو وہ اس کے خلاف شریعت بنچ میں ”شریعت درخواست“ دائر کرسکتا تھا۔ اس دوسری قسم کی ایک مثال یہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے شریعت بنچ نے ”فرشتہ کیس“ میں قرار دیا کہ ایوب خان کے دور سے رائج مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کی دفعہ 4 ، جس کے ذریعے یتیم پوتے پوتیوں/نوسے نواسیوں کےلیے وراثت میں حق تخلیق کیا گیا، شریعت سے متصادم ہے۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ ”گل حسن کیس“ میں پشاور ہائی کورٹ کے شریعت بنچ نے قرار دیا کہ قتل کے متعلق مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات شریعت سے متصادم ہیں کیونکہ ان میں عفو یا صلح کی گنجائش نہیں ہے، جبکہ شریعت نے یہ گنجائش دی ہوئی ہے۔

1980ء میں ان شریعت بنچوں کو تحلیل کرکے ان کی جگہ ایک ”وفاقی شرعی عدالت“ قائم کی گئی اور اسے وہی دونوں قسم کے اختیارات دیے گئے جو ہائی کورٹ کے شریعت بنچوں کو حاصل تھے۔ 1981ء میں وفاقی شرعی عدالت نے ”حضور بخش کیس“ میں قرار دیا کہ رجم کی سزا حد نہیں ہے۔ اس پر شدید تنقید ہوئی، تو وفاقی شرعی عدالت کو اپنے فیصلوں پر ”نظرِ ثانی“ کا اختیار دیا گیا اور پھر اس نے یہ اختیار استعمال کرتے ہوئے اپنا وہ فیصلہ تبدیل کرلیا۔

سپریم کورٹ میں شریعت اپیلیٹ بنچ

دوسری طرف سپریم کورٹ میں ”شریعت اپیلیٹ بنچ“ میں سپریم کورٹ کے تین مسلمان ججوں کے علاوہ دو ”علماء ارکان“ شامل کیے گئے اور تحلیل شدہ شریعت بنچوں کے فیصلوں کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے بھی اس شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے آگئے۔ گویا اس بنچ کے سامنے دو طرح کے مقدمات آتے ہیں: ایک، ”فوجداری اپیلیں“ اور”شریعت اپیلیں“۔

بعد میں شریعت اپیلیٹ بنچ نے ”نظرِ ثانی“ کا اختیار بھی استعمال کرنا شروع کیا، اگرچہ آئین میں کوئی صریح شق ایسی موجود نہیں تھی جس میں شریعت اپیلیٹ بنچ کو نظرِ ثانی کا اختیار دیا گیا ہو۔ تاہم چونکہ آئین میں سپریم کورٹ کے پاس نظرِ ثانی کے اختیار کے متعلق شق موجود تھی، تو اسی شق کو شریعت اپیلیٹ بنچ کےلیے بھی کافی سمجھا گیا۔ اس نظرِ ثانی کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے شریعت اپیلیٹ بنچ نے 2002ء میں سودی قوانین کے خلاف اپنا وہ فیصلہ ختم کردیا جو اس نے 1999ء میں دیا تھا اور مقدمہ واپس از سر نو سماعت کےلیے وفاقی شرعی عدالت میں بھیج دیا جہاں سے دوبارہ فیصلہ لینے میں 20 سال لگے اور 2022ء میں کہیں جا کر وفاقی شرعی عدالت نے پھر سودی قوانین کے خلاف فیصلہ دیا، تو اس فیصلے کے خلاف پھر اپیل شریعت اپیلیٹ بنچ میں آئی جہاں وہ اپیل تا حال معلق ہے۔

شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے زیرِ التوا مقدمات

سپریم کورٹ میں کام کے دوران میں میں نے تحقیق کی، تو معلوم ہوا کہ شریعت اپیلوں کی کل تعداد 92 ہے لیکن ان پیلوں کو مشترک سوال کی بنیاد پر اکٹھا کیا جائے، تو کل 31 مقدمات بنتے ہیں! ان 31 مقدمات میں چند تو ایسے ہیں جن کو ایک یا دو سماعتوں میں ہی ختم کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان میں جن قوانین کے متعلق وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ دیا تھا، بعد میں وہ قوانین تبدیل ہوگئے ہیں۔ تاہم کچھ مقدمات ایسے ہیں جو نسبتاً زیادہ اہمیت اور حساسیت رکھتے ہیں اور ان پر نسبتاً زیادہ وقت لگ سکتا ہے، لیکن ہمارے اندازے کے مطابق اگر مہینے میں صرف ایک ہفتہ شریعت اپیلیٹ بنچ ان مقدمات کی سماعت کرے، تو زیادہ سے زیادہ ایک سال میں ان سارے مقدمات کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

آخری دفعہ شریعت اپیلیٹ بنچ نے مقدمات کی سماعت 2020ء میں کی تھی، لیکن اس وقت بھی صرف فوجداری اپیلوں ہی کو سنا جاسکا تھا اور شریعت اپیلیں نہیں سنی جاسکیں۔ اس کے بعد پچھلے سال اگست 2024ء میں شریعت اپیلیٹ بنچ نے ایک ہفتہ مقدمات کی سماعت کی، تو فوجداری اپیلوں کو بھی سنا اور شریعت اپیلوں کو بھی۔ تاہم بعض فوجداری اپیلیں تو نمٹائی جاسکیں، لیکن شریعت اپیلوں میں کسی کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جب وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف شریعت اپیلیٹ بنچ میں اپیل دائر کی جائے، تو وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ خود بخود معطل ہوجاتا ہے، خواہ شریعت اپیلیٹ بنچ نے اس کے خلاف حکمِ امتناعی نہ دیا ہو، بلکہ سرے سے سماعت ہی نہ کی ہو۔ چنانچہ اپیل کرنے والے فریق کو سرے سے اس میں دلچسپی ہی نہیں ہوتی کہ شریعت اپیلیٹ بنچ اس کی اپیل کی سماعت کرے کیونکہ جس فیصلے پر اسے اعتراض تھا، وہ ویسے ہی معطل ہوچکا ہوتا ہے۔

پچھلے سال 26 ویں ترمیم میں شریعت اپیلیٹ بنچ کے متعلق یہ شق شامل کی گئی کہ اگر اپیل دائر ہونے کے بعد 12 مہینوں میں شریعت اپیلیٹ بنچ نے اس کی سماعت نہیں کی، تو وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ نافذ ہوجائے گا، الا یہ کہ شریعت اپیلیٹ بنچ سماعت کرکے اس کے خلاف حکمِ امتناعی دے دے۔ تاہم اس شق کا اطلاق 26 ویں ترمیم کے بعد دائر ہونے والی اپیلوں پر ہوتا ہے اور قدیمی اپیلوں پر اس شق کا اطلاق نہیں ہوتا، یعنی وہ بدستور سردخانے میں پڑی ہوں گی۔

36 سال پرانی اپیلیں

ایسی قدیمی اپیلوں میں بعض ایسی ہیں جو کئی عشروں سے معلق ہیں۔ مثال کے طور پر مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس 1961ء کی بعض دفعات کو وفاقی شرعی عدالت نے دسمبر 1999ء میں غیر اسلامی قرار دیا ہے، لیکن 26 سالوں سے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے زیرِ التوا ہیں اور جس قانون کو وفاقی شرعی عدالت غیر اسلامی قرار دے چکی ہے وہ ربع صدی سے محض اس وجہ سے ملک میں رائج ہے کہ شریعت اپیلیٹ بنچ اس کے خلاف اپیلوں کا فیصلہ نہیں سنا رہی۔ ایک اور مثال ”بیگم رشیدہ پٹیل بنام وفاقِ پاکستان“میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والی اپیلیں ہیں جو 1989ء سے، یعنی 36 سالوں سے شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے زیرِ التوا ہیں۔ اسی طرح کورٹ فیس ایکٹ 1870ء کے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں 1991ء سے، یعنی 34 سالوں سے، شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے زیرِ التوا ہیں۔

31 قدیمی شریعت اپیلوں میں زیادہ اہمیت کے حامل مقدمات درج ذیل ہیں:
• 1989ء سے: حدود قوانین کی بعض دفعات کے متعلق ؛
• 1991ء سے: کورٹ فیس ایکٹ کے متعلق؛
• 1992ء سے: قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی بعض دفعات کے متعلق؛
• 2000ء سے: مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس 1961ء کی دفعات کے متعلق؛
• 2008ء سے: شہریت کے قانون 1951ء کی دفعہ 10 کے متعلق؛
• 2008ء سے: پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کی بعض دفعات کے متعلق؛
• 2011ء سے: قانونِ تحفظِ حقوقِ نسواں 2006ء کی بعض دفعات کے متعلق؛
• 2022ء سے: سود کو تحفظ دینے والے قوانین کے متعلق؛
• 2022ء سے: پنجاب گھریلو تشدد ایکٹ 2016ء کی بعض دفعات کے متعلق؛
• 2023ء سے: ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ 2018ء کی بعض دفعات کے متعلق؛ اور
• 2023ء سے: سندھ صغر سنی کی شادی پر پابندی کے قانون کی بعض دفعات کے متعلق۔

ستائیسویں ترمیم کے بعد کی صورتحال

27 ویں ترمیم نے معاملہ مزید گمبھیر کردیا ہے کیونکہ اس نے سپریم کورٹ کو آئینی اختیارِ سماعت سے محروم کردیا ہے اور ایسے تمام مقدمات پر، جن میں آئین کی تعبیر کا سوال ہو، ”وفاقی آئینی عدالت“ کا اختیارِ سماعت قائم کرلیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ اب آئین کی تعبیر کا اختیار بھی نہیں رکھتی، تو وہ اس سوال کا فیصلہ کیسے کرسکے گی کہ کوئی قانون شریعت سے تصادم کی بنا پر کالعدم ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ 27 ویں ترمیم نے شریعت اپیلیٹ بنچ کے اختیارِ سماعت سے متعلق دفعات کو نہیں چھیڑا کیونکہ شریعت اپیلیٹ بنچ کوئی مستقل عدالت نہیں ہے، بلکہ سپریم کورٹ ہی کا ایک بنچ ہے۔ اس لیے یہ سوال رہتا ہے کہ جو اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں ہے، وہ اس کا کوئی بنچ کیسے استعمال کرسکتا ہے؟

ایک سوال شریعت اپیلیٹ بنچ کے بلانے کے اختیار کے متعلق رہتا ہے۔ سپریم کورٹ میں بنچوں کی تشکیل کا اختیار سپریم کورٹ رولز 1981ء کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس تھا۔ وہی جب چاہتے، تو شریعت اپیلیٹ بنچ کے تمام 5 ارکان، یا ان میں بعض ارکان پر مشتمل بنچ کے سامنے سماعت کےلیے مقدمات رکھ دیتے۔ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023ء نے یہ اختیار چیف جسٹس اور دو ججوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی کو دے دیا۔ چنانچہ پچھلے سال شریعت اپیلیٹ بنچ کے مقدمات مقرر کرنے کا کاکام اسی کمیٹی نے کیا تھا۔

تاہم 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس کمیٹی سے ان مقدمات کےلیے بنچ تشکیل دینے کا اختیار لے لیا گیا، جن میں آئینی سوالات اٹھائے گئے ہوں۔ ایسے مقدمات کےلیے خصوصی آئینی بنچ بنا کر اس کی تشکیل کا کام جیوڈیشل کمیشن کو دے دیا گیا۔ اب 27 ویں ترمیم کے ذریعے جیوڈیشل کمیشن سے بھی یہ اختیار لے لیا گیا ہے کیونکہ اب آئینی بنچ ختم کرکے مستقل آئینی عدالت تشکیل دے دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ایک ترمیمی ایکٹ بھی منظور کیا گیا ہے جس کے ذریعے اس کمیٹی کے اختیار کو ان مقدمات تک محدود کردیا گیا ہے جو سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آتے ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ شریعت اپیلوں کی سماعت کےلیے شریعت اپیلیٹ بنچ مقرر کرنے کا فیصلہ یہ کمیٹی کیسے کرسکے گی؟ کیا اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس قانون نے یہ اختیار کمیٹی سے چھین کر جیوڈیشل کمیشن کو دے دیا تھا، چونکہ اب وہ قانون بھی منسوخ ہوگیا ہے، اس لیے یہ اختیار واپس اس کمیٹی کے پاس آگیا ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے کیونکہ قانوناً یہ اصول طے شدہ ہے کہ قانون الف کو قانون ب نے منسوخ کردیا اور پھر قانون نے ج نے قانون ب کو منسوخ کردیا، تو قانون الف از خود زندہ نہیں ہوجاتا، جب تک قانون ج میں اس کی تصریح نہ کی جائے۔ چونکہ ایسی کوئی تصریح نئے قانو ن میں نہیں کی گئی ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اختیار واپس کمیٹی کے پاس آگیا ہے۔

اس آئینی و قانونی گتھی کو کیسے سلجھایا جاسکتا ہے؟

Author

اپنا تبصرہ لکھیں