سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل، خواجہ احمد حسین نے اپنے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ، سویلین افراد کا کورٹ مارشل کسی بھی صورت ممکن نہیں، کیونکہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا طریقہ شفاف ٹرائل کے بنیادی تقاضوں کے خلاف ہے۔
دوران سماعت، جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ، کیا دھماکہ کرنے والے اور عام شہری میں کوئی فرق نہیں؟ جس پر وکیل خواجہ احمد حسین نے وضاحت کی کہ، وہ کسی دہشت گرد یا ملزم کے دفاع میں بات نہیں کر رہے، بلکہ صرف آئینی اصول پر بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، اگر آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بغیر سویلینز کا کورٹ مارشل ممکن ہوتا تو 21 ویں آئینی ترمیم کی ضرورت نہ پڑتی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ، اگر دہشت گردی کے حملے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جی ایچ کیو پر ہوں تو دو مقامات پر حملے کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت میں جبکہ جی ایچ کیو پر حملے کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوگا، حالانکہ تینوں حملے ایک جیسے ہیں۔ انہوں نے اس تفریق پر سوال اٹھایا کہ، ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟
وزارت دفاع کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ، آرٹیکل 184(3) کے تحت یہ اپیل قابل سماعت ہی نہیں، کیونکہ جہاں آرٹیکل 8 کی زیلی شق تین اے کا اطلاق ہو، وہاں براہ راست درخواست نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ، جسٹس یحییٰ آفریدی نے ہمیشہ آرٹیکل 184(3) کے اختیار کو محتاط انداز میں استعمال کرنے پر زور دیا ہے، اور ان کے مطابق یہ کیس براہ راست قابل سماعت نہیں تھا۔
ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین نے برگیڈیئر (ر) فرخ بخت علی کیس کا حوالہ دیا، جس میں ان پر فوج کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا۔ اس کیس میں 1974 میں ان کا کورٹ مارشل کیا گیا تھا، جس کی نگرانی میجر جنرل ضیاء الحق نے کی تھی، جو بعد میں پاکستان کے آرمی چیف اور صدر بن گئے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے 21 ویں ترمیم کے خاتمے کے بعد فوجی عدالتوں میں جاری کیسز کے جواز پر سوال اٹھایاکہ،21ویں ترمیم ختم ہونے کے بعد موجودہ کیسز میں کورٹ ماشل کیسے ہوگیا؟جس پر وکیل نے وضاحت کی کہ، 9 اور 10 مئی کے واقعات میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق کیا گیا تھا، جس کی بنیاد پر یہ ٹرائل فوجی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔
وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو خواجہ احمد حسین نے کہا کہ، عدالت کو قومی سلامتی اور بنیادی انسانی حقوق میں توازن قائم کرنا ہوگا، اور اگر آئینی بینچ نے مرکزی فیصلے کو برقرار رکھا تو اس سے دہشت گردوں کو فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ انسداد دہشت گردی کے قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ، عدالت کسی بھی صورت سویلینز کو غیر شفاف نظام کے سپرد نہیں کر سکتی۔
انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ، یہ ملک آئینی اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر قائم ہوا ہے، اور سپریم کورٹ کو بھی انہی اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ان کی استدعا تھی کہ، مرکزی عدالتی فیصلے کو برقرار رکھا جائے اور اپیلیں خارج کر دی جائیں۔