خلیجی کشیدگی کے باوجود بھارت کے دو مزید مائع گیس بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر کے بحفاظت بھارتی بندرگاہوں کی جانب روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ اب بھی 16 جہاز خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔
بھارتی حکام کے مطابق،’گرین سانوی’ نامی جہاز، جو تقریبا 46 ہزار 650 ٹن گیس لے کر جا رہا ہے، 7 اپریل کو بھارت پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ ‘گرین آشا’ 15 ہزار 500 ٹن کارگو کے ساتھ 9 اپریل کو پہنچے گا۔ وزارتِ بندرگاہ و جہازرانی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود بھارتی بحری سرگرمیاں محفوظ اور بلا تعطل جاری ہیں۔
ان دو جہازوں کی آمد کے بعد اب تک آٹھ بھارتی پرچم بردار مائع گیس جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔ یہ اہم بحری راستہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایرانی ردعمل کے باعث شدید متاثر رہا ہے۔
حکام کے مطابق، خلیج فارس میں اب بھی موجود 16 جہازوں میں ایک مائع قدرتی گیس بردار جہاز، دو مائع گیس جہاز، چھ خام تیل بردار جہاز، تین کنٹینر بردار جہاز، ایک ڈریجر، ایک کیمیائی مواد لے جانے والا جہاز اور دو بلک کیریئر شامل ہیں۔ ان جہازوں میں سینکڑوں ملاح بھی موجود ہیں۔
بھارت اپنی گیس کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور گزشتہ سال استعمال ہونے والی گیس کا تقریبا 60 فیصد بیرونِ ملک سے حاصل کیا گیا، جس میں زیادہ تر سپلائی مغربی ایشیا سے آئی۔ اس لیے ان جہازوں کی آمد سے ملک میں گیس کی قلت کے خدشات میں کمی آنے کی توقع ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث یہاں جہاز رانی متاثر ہوئی ہے، تاہم ایران کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ غیر دشمن ممالک کے جہاز مناسب رابطے کے بعد گزر سکتے ہیں۔