انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے پیر کے روز مزید 14 سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مقامات گزشتہ برس پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد عام سیاحوں کے لیے بند کر دیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اپریل 2025 میں پہلگام میں مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے ایک مقامی گھوڑے بان سمیت 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے جموں و کشمیر کے 50 سیاحتی مقامات کو ’نو گو زون‘ قرار دے کر وہاں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
اگرچہ گزشتہ برس ستمبر میں پہلگام میں محدود سیاحتی سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی تھی اور چند دیگر مقامات بھی مرحلہ وار کھولے گئے تھے، تاہم سیاحوں کو پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔
تازہ حکمنامے کے مطابق، سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کئی اہم مقامات بحال کر دیے گئے ہیں۔ ان میں یوس مرگ، دودھ پتھری، کوکرناگ کا ڈانڈی پورہ پارک، شوپیان کے پڑپاون اور دھوبجن، سرینگر کا ٹیولپ گارڈن، سونہ مرگ کا تھاجواس گلیشیئر، گاندربل کا ہنگ پارک، جھیل ولر اور وٹلب شامل ہیں۔
جموں خطے میں بھی ریاسی کا دیوی پنڈی، رام بن کا مہو منگت اور کشتواڑ کا مغل میدان کئی ماہ بعد عام سیاحت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
سیاحت کے شعبے سے وابستہ ہوٹل مالکان اور ٹرانسپورٹرز نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سربراہ جاوید ٹینگا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کئی ماہ سے ان مقامات کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کے مطابق، سیاحت لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے اور کشمیر کی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔