پاکستان بھر میں جاری سال کی پہلی قومی پولیو مہم کے دوران تقریبا 10 لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہ گئے، جبکہ مجموعی طور پر 53 ہزار سے زائد والدین کی جانب سے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کی رپورٹس سامنے آئیں۔ یہ مہم بیشتر شہروں میں 5 فروری کو مکمل ہوئی، تاہم سندھ میں یہ 8 فروری تک جاری رہی۔
مہم کے دوران مجموعی طور پر 4 کروڑ 43 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے، جسے پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گھریلو سطح پر مہم کی مجموعی کوریج 98 فیصد رہی، تاہم 2 فیصد بچے اس کے باوجود ویکسینیشن سے محروم رہ گئے، جو آبادی کے لحاظ سے ایک تشویشناک تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، تقریبا 9 لاکھ 50 ہزار بچوں کو مہم کے دوران ’’مسڈ‘‘ قرار دیا گیا۔ ان میں سے بڑی تعداد، یعنی تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار بچے اس وجہ سے ویکسین سے محروم رہے کہ ویکسینیشن ٹیموں کے گھروں پر پہنچنے کے وقت وہ موجود نہیں تھے۔ تاہم اسی مہم کے دوران 25 لاکھ مہمان بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے، جس سے امکان ہے کہ گھروں میں غیر موجود بچوں کی ایک بڑی تعداد کا احاطہ ہو گیا ہو۔
پولیو پروگرام کے حکام کے مطابق، تقریبا 2 لاکھ 33 ہزار بچے سیکیورٹی مسائل، کمیونٹی بائیکاٹ اور برف باری کے باعث رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ویکسین سے محروم رہے۔ ان میں سے 1 لاکھ 84 ہزار بچے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں جنوبی خیبرپختونخوا کے 1 لاکھ 13 ہزار بچے شامل ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی تقریبا 50 ہزار بچے شدید برف باری اور مہم نہ چلنے کے باعث ویکسین سے محروم رہ گئے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث مستونگ، گوادر، چاغی اور آواران میں پولیو مہم ملتوی کر دی گئی۔ مجموعی طور پر ہدف بنائے گئے بچوں میں سے 0.14 فیصد والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا، جن میں سب سے زیادہ، یعنی 31 ہزار انکار کراچی سے رپورٹ ہوئے، جو ملک بھر میں سب سے بڑا تناسب ہے۔ مجموعی طور پر انکار کی شرح میں کراچی کا حصہ 58 فیصد رہا۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کی جانب سے جاری بیان میں مہم کے کامیاب انعقاد پر تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا گیا۔ بیان کے مطابق، پنجاب میں 2 کروڑ 29 لاکھ سے زائد، سندھ میں ایک کروڑ 5 لاکھ سے زیادہ، خیبرپختونخوا میں 71 لاکھ 30 ہزار سے زائد اور بلوچستان میں 23 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔
اسی طرح اسلام آباد میں 4 لاکھ 55 ہزار سے زائد، گلگت بلتستان میں تقریبا 2 لاکھ 61 ہزار اور آزاد جموں و کشمیر میں 6 لاکھ 73 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دیے گئے۔
ای او سی کے مطابق 2026 کی پہلی قومی پولیو مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت چلائی گئی، جس کا مقصد سرحد پار پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنا اور دونوں ممالک کے بچوں کو محفوظ بنانا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومتِ پاکستان پولیو فری پاکستان کے ہدف کے حصول کے لیے مسلسل ویکسینیشن، عوامی شمولیت اور علاقائی تعاون کے عزم پر قائم ہے۔
پاکستان پولیو پروگرام کے سربراہ انورالحق نے بتایا کہ ایک مثبت پیش رفت یہ ہے کہ 2025 میں پولیو کے کیسز کی تعداد کم ہو کر 31 رہ گئی، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 74 تھی۔ ان کے مطابق اس وقت پنجاب، پشاور اور بلوچستان میں پولیو وائرس منفی ہے، تاہم سندھ اور جنوبی خیبرپختونخوا پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔