کرپٹو کرنسی کے ذریعے دولت مند بننے والے جان کولنز بلیک نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے قیمتی خزانہ 5 مختلف مقامات پر چھپا دیا ہے۔ اس خزانے میں اولمپک گولڈ میڈل، بٹ کوائنز، نایاب ٹریڈنگ کارڈز، تاریخی نوادرات، اور دیگر قیمتی اشیا شامل ہیں، جن کی مالیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
کتاب میں خزانے کے اشارے
جان کولنز بلیک نے اپنی کتاب میں ان اشیا کی لوکیشنز کے بارے میں اشارے دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ڈبے زمین میں دفن نہیں کیے گئے، بلکہ پبلک پراپرٹیز میں چھپائے گئے ہیں، جو کسی بھی سڑک کے قریب 3 میل کے فاصلے پر موجود ہیں۔
خزانے کی تفصیلات
یہ خزانہ نہایت منفرد اشیا پر مشتمل ہے، جن میں 1996 اولمپکس کا ایک گولڈ میڈل، نایاب ہولوگرافک پوکیمون کارڈ، امریکا کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کا گلاس، چاند کی چٹان کا ایک ٹکڑا، 21 اونس خالص سونا اور 3 سے 4 ہزار قبل مسیح پرانا چینی بریسلیٹ شامل ہیں۔
جان بلیک کے مطابق خزانے پر انہوں نے 20 لاکھ ڈالرز سے زائد خرچ کیے ہیں، اور بٹ کوائنز کی موجودہ قیمت کے باعث اس کی مالیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
تجربے کو محفوظ اور پرلطف بنانے کی کوشش
انہوں نے خزانے کی تلاش کو محفوظ اور دلچسپ بنانے پر زور دیا ہے۔ ان کے بقول، تمام ڈبے ایسے مقامات پر چھپائے گئے ہیں جہاں جانا خطرناک نہیں۔ کتاب میں ایک مکمل باب اس بات پر مشتمل ہے کہ خزانے کی تلاش کو کس طرح پرلطف اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
خیال کی ابتدا
جان بلیک کو خزانہ چھپانے کا یہ خیال 2010 میں فورسٹ فین کے مشہور خزانے سے آیا، جسے تلاش کرنے میں 10 سال لگے اور کئی افراد کی جانیں گئیں۔ تاہم، بلیک نے یقین دہانی کرائی کہ ان کا خزانہ تلاش کرنا اگرچہ مشکل ہے، لیکن خطرناک نہیں۔
یہ مہم ان افراد کے لیے تیار کی گئی ہے جو اشاروں کو سمجھنے یا چھپے ہوئے خزانے کی تلاش کا شوق رکھتے ہیں۔ کیا آپ اس مہم کا حصہ بننا چاہیں گے؟