بالوں کا سفید ہونا ایک ایسا عمل ہے جس سے تقریباً ہر انسان زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر گزرتا ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عام سی تبدیلی کے بارے میں سائنس دان اب تک مکمل طور پر یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکے۔ حالیہ تحقیق سے کچھ نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن سے یہ سمجھنے میں مدد مل رہی ہے کہ بال آخر سفید کیوں ہوتے ہیں اور کیا کبھی ان کا رنگ دوبارہ واپس آ سکتا ہے۔
دی نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر بال دراصل ابتدا میں تقریباً بے رنگ ہوتا ہے اور اس کا رنگ ایک خاص مادے سے بنتا ہے جسے میلانن کہا جاتا ہے۔ یہی مادہ بالوں کو سیاہ، بھورا یا سنہری رنگ دیتا ہے۔ اگر بالوں میں یہ رنگ زیادہ مقدار میں موجود ہو تو بال گہرے رنگ کے نظر آتے ہیں، جبکہ کم مقدار ہونے پر بال ہلکے دکھائی دیتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ بالوں کی جڑ میں موجود وہ خلیے جو رنگ پیدا کرتے ہیں آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتے ہیں یا اپنا کام بند کر دیتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو بالوں کا رنگ ختم ہونے لگتا ہے اور وہ سفید یا سرمئی نظر آنے لگتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سفید بال عموماً زیادہ سخت اور بے قابو ہوتے ہیں اور بعض اوقات عام بالوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بال ایک ساتھ سفید نہیں ہوتے بلکہ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتے ہیں۔ ابتدا میں چند سفید بال نظر آتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ بالوں میں سیاہ اور سفید کا ملا جلا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ بعض حالات میں بالوں میں دوبارہ رنگ بھی ظاہر ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب جڑ میں موجود خلیے مکمل طور پر ختم نہ ہوئے ہوں۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ذہنی دباؤ بالوں کے سفید ہونے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جن افراد نے زیادہ ذہنی دباؤ کا سامنا کیا ان کے بالوں میں سفید دھاریاں زیادہ نمایاں تھیں، جبکہ دباؤ کم ہونے پر بعض بالوں میں رنگ دوبارہ ظاہر ہوا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی کے حالات بھی اس عمل پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
کچھ مریضوں میں سرطان کے علاج کے دوران بھی بالوں کے رنگ میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ بعض اوقات علاج کے بعد بالوں کے کچھ حصوں میں دوبارہ رنگ پیدا ہو گیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے مواقع پر جڑ میں موجود غیر فعال خلیے دوبارہ متحرک ہو جاتے ہیں۔
تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں میں بالوں کا سفید ہونا فطری اور موروثی عمل ہے۔ یعنی اگر والدین یا خاندان میں لوگوں کے بال جلد سفید ہوتے ہیں تو نئی نسل میں بھی ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ عام طور پر سفید فام افراد میں بال تیس کی دہائی کے وسط میں سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ایشیائی افراد میں یہ عمل عموماً تیس کی دہائی کے آخر میں جبکہ سیاہ فام افراد میں چالیس سال کے قریب شروع ہوتا ہے۔
طرزِ زندگی بھی اس عمل کو کسی حد تک متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی سے پرہیز، ذہنی دباؤ میں کمی، مناسب نیند اور متوازن غذا بالوں کے خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ بعض اوقات آئرن اور وٹامن بی بارہ کی کمی بھی وقت سے پہلے بال سفید ہونے کا سبب بن سکتی ہے، اگرچہ ایسے کیسز نسبتاً کم دیکھے جاتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بازار میں فروخت ہونے والی بہت سی ادویات اور سپلیمنٹس کے بارے میں دعوے کیے جاتے ہیں کہ وہ سفید بالوں کو روک سکتی ہیں یا دوبارہ سیاہ کر سکتی ہیں، لیکن سائنسی طور پر ابھی تک ایسا کوئی مؤثر علاج ثابت نہیں ہو سکا۔ اس لیے ایسے دعووں پر احتیاط سے یقین کرنا چاہیے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے بال اچانک یا بہت کم عمر میں سفید ہونا شروع ہو جائیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مفید ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض اوقات یہ کسی بیماری، ہارمون کے مسئلے یا دوا کے اثر کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں علاج کے ذریعے مزید سفید ہونے کے عمل کو کم کیا جا سکتا ہے اور کبھی کبھار رنگ بھی واپس آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر بالوں کے سفید ہونے کو مکمل طور پر روکنے کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں، لیکن صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے اس عمل کو سست ضرور کیا جا سکتا ہے۔