پاکستان اور امریکا کے درمیان روز ویلٹ ہوٹل کی از سرِ نو ترقی کے لیے معاہدے پر اتفاق

پاکستان اور امریکا کے درمیان نیویارک کے تاریخی روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِنو ترقی کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر مین ہیٹن میں واقع مشہور روزویلٹ ہوٹل کی مرمت، دیکھ بھال اور دوبارہ ترقی کے منصوبے پر کام کرے گا۔

پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ایک اسٹریٹجک معاشی اقدام کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت ہوٹل کی آپریشن، تزئین و آرائش اور ممکنہ ری ڈیولپمنٹ کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ بیان کے مطابق، اس معاہدے میں ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کو کم کرنے اور منصوبے کی قدر میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ معاہدہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی کوششوں سے طے پایا، جو نیویارک کے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ امریکی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکی انتظامیہ کے سفارتی تعلقات اور معاشی خوشحالی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، اور وہ اس منصوبے پر پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔

روزویلٹ ہوٹل 1924 میں گرینڈ سینٹرل ٹرمینل کے اطراف کے علاقے کی ترقی کے منصوبے کے تحت تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کا نام سابق امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کے نام پر رکھا گیا۔ 1979 میں پاکستان انٹرمیشن ایئر لائنز نے اس عمارت کو لیز پر حاصل کیا اور بعد ازاں مکمل ملکیت حاصل کر لی۔

یہ عمارت 2020 کے آخر میں بطور لگژری ہوٹل بند کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں اسے نیویارک شہر میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی عارضی رہائش اور پراسیسنگ سینٹر کے طور پر استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے اسے “نیا ایلس آئی لینڈ” بھی کہا جانے لگا۔

رئیل اسٹیٹ ماہرین کے مطابق مین ہیٹن کے وسط میں واقع یہ مقام انتہائی قیمتی ہے اور یہاں نئی دفتری عمارت یا دیگر تجارتی منصوبہ تیار کیا جا سکتا ہے، تاہم نیویارک کے پیچیدہ زوننگ قوانین اور بلدیاتی عمل کے باعث یہ منصوبہ مہنگا اور مشکل بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس شراکت داری کا مقصد منصوبے کے خطرات کو کم کرنا، قانونی وضاحت کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاری کی زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کرنا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں