پاکستان اور ازبکستان کے درمیان براہِ راست فضائی کارگو کی سہولت سے تجارتی میں مزید اضافہ ہوگا: رپورٹ

گزشتہ 9 برسوں کے دوران ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات میں نمایاں اور تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت داری نے اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2017 سے 2025 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں 12 گنا سے زائد اضافہ ہوا اور 2025 کے اختتام تک تجارتی حجم 44 کروڑ 59 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔

2025 میں ازبکستان کی پاکستان کو برآمدات میں زیادہ تر زرعی مصنوعات شامل تھیں، جن میں خشک دالیں، میوہ جات اور مونگ پھلی نمایاں رہیں۔ یہ اشیا مجموعی برآمدات کا تقریبا 80 فیصد حصہ تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی مصنوعات، جیسے دھاگہ اور غیر خوراکی خام مال کی برآمدات میں بھی مثبت اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب پاکستان سے درآمدات میں زیادہ تر غذائی اشیا اور کیمیکل صنعت کی مصنوعات، خصوصا ادویات اور ڈٹرجنٹس شامل تھے۔

رواں سال 5 اور 6 فروری کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کے دورہ پاکستان کے دوران اعلیٰ سطح مذاکرات ہوئے، جن میں یہ ہدف طے کیا گیا کہ آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو بڑھا کر 2 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔ اس دورے کے اختتام پر تقریبا 3.5 ارب ڈالر مالیت کے تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدوں کا ایک پورٹ فولیو بھی تشکیل دیا گیا، جس میں صنعت، لاجسٹکس، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں نئے منصوبے شامل ہیں۔

تجارتی اور سیاحتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ازبکستان ایئر ویز اس وقت تاشقند سے اسلام آباد اور لاہور کے لیے ہفتے میں چار باقاعدہ پروازیں چلا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ازبکستان کی نجی ایئرلائن سِنٹرم ایئر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اپریل سے لاہور کے لیے براہِ راست پروازوں کا آغاز کرے گی۔

دونوں ممالک کے درمیان فضائی کارگو اور لاجسٹکس کے شعبے میں تعاون کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ براہِ راست پروازوں کی بدولت برآمد کنندگان کو تیز اور محفوظ ترسیل کی سہولت حاصل ہو رہی ہے۔ تاشقند سے روانہ ہونے والی پروازوں کے ذریعے پاکستانی درآمد کنندگان دو ٹن تک سامان آسانی سے منگوا سکتے ہیں۔ اس سے ازبک مصنوعات کو پاکستان کی 25 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل بڑی منڈی تک تیزی اور مسابقتی انداز میں پہنچانے میں مدد ملے گی۔

ماہرین کے مطابق فضائی رابطوں میں اضافہ اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری معاہدے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں