بومرز یا بیبی بومرز ایک ایسی اصطلاح ہے جو دنیا کی ایک مخصوص نسل کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اور اس کا تعلق صرف عمر سے نہیں بلکہ تاریخ، سماج، معیشت اور طرزِ فکر سے بھی ہے۔ بیبی بومرز اُن افراد کو کہا جاتا ہے جو 1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہوئے، یعنی دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد کے دور میں۔ اس زمانے میں دنیا، خصوصاً مغربی ممالک، ایک بڑی جنگ کی تباہ کاریوں سے نکل کر امن، معاشی بحالی اور استحکام کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد فوجی گھروں کو لوٹے، شادیاں بڑھیں اور بچوں کی پیدائش میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جسے “بیبی بوم” کہا گیا، اور اسی نسبت سے اس دور میں پیدا ہونے والی نسل کو بیبی بومرز کا نام دیا گیا۔
بومرز نے ایک ایسے دور میں آنکھ کھولی جب دنیا نسبتاً سادہ تھی، ٹیکنالوجی محدود تھی اور زندگی کے اصول واضح سمجھے جاتے تھے۔ اس نسل کی پرورش روایتی خاندانی نظام میں ہوئی جہاں نظم و ضبط، بڑوں کا احترام، محنت اور صبر کو بنیادی اقدار سمجھا جاتا تھا۔ بومرز کے نزدیک کامیابی کا راستہ تعلیم حاصل کرنے، مستقل ملازمت کرنے اور طویل عرصے تک ایک ہی ادارے سے وابستہ رہنے سے ہو کر گزرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسل کے افراد نے سرکاری نوکریوں، کارخانوں، دفاتر اور روایتی کاروباروں میں دہائیوں تک کام کیا اور استحکام کو زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھا۔
سماجی اور سیاسی اعتبار سے بومرز ایک نہایت اہم نسل رہی ہے۔ انہوں نے دنیا میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو نہ صرف دیکھا بلکہ ان میں کسی نہ کسی حد تک حصہ بھی لیا۔ شہری حقوق کی تحریکیں، نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد، خواتین کے حقوق کی تحریک، سرد جنگ، ویت نام جنگ اور دیگر عالمی واقعات اسی نسل کے دور میں رونما ہوئے۔ بہت سے بومرز نے احتجاجی سیاست دیکھی، سوال اٹھانا سیکھا اور سماج کو بدلنے کی کوشش کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج جن بومرز کو قدامت پسند کہا جاتا ہے، ان میں سے کئی اپنی جوانی میں خود انقلابی خیالات رکھتے تھے۔
ٹیکنالوجی کے حوالے سے بومرز اور نئی نسل کے درمیان فرق سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ بومرز نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بغیر انٹرنیٹ، موبائل فون اور سوشل میڈیا کے گزارا۔ معلومات کے لیے اخبارات، ریڈیو، کتابیں اور خط و کتابت ہی واحد ذریعہ تھے۔ رابطے محدود مگر گہرے ہوتے تھے، اور صبر ایک لازمی عادت تھی۔ جب ڈیجیٹل انقلاب آیا تو بومرز کے لیے خود کو اس تیز رفتار تبدیلی کے مطابق ڈھالنا آسان نہیں تھا۔ اسی وجہ سے آج کی نوجوان نسل اکثر بومرز کو ٹیکنالوجی کے معاملے میں سست، غیر دلچسپی رکھنے والا یا نابلد سمجھتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ فرق صلاحیت کا نہیں بلکہ تجربے اور ماحول کا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ “بومر” کا لفظ اپنے اصل معنی سے ہٹ کر ایک طنزیہ اصطلاح بنتا چلا گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ لفظ ایسے افراد کے لیے استعمال ہونے لگا جو نئی سوچ، جدید مسائل یا نوجوانوں کی مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ خاص طور پر “اوکے بومر” جیسا جملہ اس رویّے کی علامت بن گیا، جو اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی بزرگ شخص نوجوان نسل کے مسائل کو محض سستی، شکایت یا نافرمانی قرار دے کر رد کر دیتا ہے۔ اس استعمال میں اکثر احترام کے بجائے طنز اور جھنجھلاہٹ پائی جاتی ہے۔
بومرز اور نئی نسلوں کے درمیان یہ اختلاف دراصل نسلوں کے درمیان فاصلے یا جنریشن گیپ کی ایک شکل ہے۔ بومرز کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ انہوں نے بھی مشکلات کا سامنا کیا، کم وسائل میں زندگی گزاری اور محنت سے مقام بنایا، اس لیے نئی نسل کو بھی صبر اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔ اس کے برعکس نئی نسل کا ماننا ہے کہ آج کے حالات مختلف ہیں، مہنگائی زیادہ ہے، ملازمتیں کم ہیں، مقابلہ سخت ہے اور ذہنی دباؤ کہیں زیادہ ہے۔ وہ نظامی مسائل کی بات کرتی ہے جنہیں محض انفرادی محنت سے حل کرنا ممکن نہیں۔ یہی فکری فرق اکثر ایک دوسرے کے خلاف تنقید اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔
یہ بات تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بومرز پر ہونے والی عمومی تنقید ہمیشہ منصفانہ نہیں ہوتی۔ ہر بومر ایک جیسا نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر بومر تبدیلی کا مخالف ہوتا ہے۔ بہت سے بومرز نے نئی ٹیکنالوجی سیکھی، نئے خیالات اپنائے اور وقت کے ساتھ خود کو بدلا۔ اسی طرح نئی نسل پر یہ الزام لگانا بھی درست نہیں کہ وہ سست یا غیر سنجیدہ ہے۔ ہر نسل اپنے وقت کے حالات کے مطابق سوچتی اور عمل کرتی ہے، اور ایک نسل کے تجربات کو دوسری نسل پر لاگو کرنا ہمیشہ درست نتائج نہیں دیتا۔
بومرز کے مثبت کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ادارے قائم کیے، معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ایسے نظام بنائے جن سے آج کی نسلیں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اگر آج دنیا میں سہولیات، حقوق اور مواقع موجود ہیں تو ان کی تیاری میں بومرز کی دہائیوں پر محیط محنت شامل ہے۔ ان کی غلطیاں اپنی جگہ، مگر ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ بومرز محض ایک لفظ یا مذاق نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی علامت ہیں، جس نے تاریخ کے اہم موڑ دیکھے اور دنیا کو موجودہ شکل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اگر نسلوں کے درمیان احترام، مکالمہ اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا جذبہ پیدا ہو جائے تو طنز اور تلخی کی جگہ تعاون اور سیکھنے کا عمل فروغ پا سکتا ہے۔ بومرز کے تجربات اور نئی نسل کی توانائی اگر ایک دوسرے کے مخالف ہونے کے بجائے ایک دوسرے کی تکمیل بن جائیں تو معاشرہ زیادہ متوازن اور مضبوط ہو سکتا ہے