بھارت کے سابق آرمی چیف، جنرل ریٹائرڈ منوج نروانے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ سیز فائر پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ، جنگ کوئی رومانوی چیز یا بالی ووڈفلم نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، جس کا سہارا صرف آخری صورت میں لینا چاہیے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، پونے شہر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل نروانے کا کہنا تھا کہ، اگرچہ وہ ایک سپاہی ہیں اور انہیں حکم دیا گیا تو وہ ضرور محاذ پر جائیں گے، تاہم ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کا حل ہوگا، تاکہ مسلح تصادم سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ، سرحدی علاقوں میں رہنے والے معصوم شہری، خصوصا بچے، مسلسل گولہ باری کے خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور راتوں کو پناہ گاہوں کی جانب دوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں جنگ کی خواہش رکھنا نہایت غیر سنجیدہ رویہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ،یہ جنگ کا دور نہیں ہے، اور ہمارے وزیر اعظم بھی یہی پیغام دے چکے ہیں۔ لیکن کچھ نادان عناصر ہمیں جنگ پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں ان کی باتوں میں آ کر جنگ پر خوش نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، کئی لوگ اب بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ، مکمل جنگ کا راستہ کیوں نہیں اپنایا گیا، مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ، جنگ کا مطلب صرف دشمن پر وار کرنا نہیں، بلکہ اپنے عوام اور مستقبل کو خطرے میں ڈالنا ہے۔