ازبکستان میں سال 2025 کے دوران بیرونِ ملک سیاحت کے شعبے میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قومی شماریاتی کمیٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 76 لاکھ ازبک شہری سیاحت کی غرض سے بیرونِ ملک گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں بائیس فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی وبا کے بعد بین الاقوامی سفر کی مکمل بحالی، عوامی آمدنی میں بہتری اور سفری سہولیات میں اضافے کا نتیجہ ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ازبک شہریوں کی اکثریت نے قریبی وسطی ایشیائی ممالک کو ترجیح دی۔ کرغزستان سب سے زیادہ مقبول منزل کے طور پر سامنے آیا، جہاں سال بھر میں 33 لاکھ سے زائد ازبک سیاحوں نے سفر کیا۔ قازقستان اور تاجکستان بھی نمایاں رہے، جہاں ہر ایک ملک میں تقریباً 13 لاکھ شہریوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ ان ممالک میں ویزا فری یا آسان سفری سہولیات ازبک سیاحوں کے لیے ایک بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہیں۔
وسطی ایشیا سے باہر روس ازبک شہریوں کے لیے بدستور سب سے پسندیدہ ملک رہا۔ سال 2025 کے دوران چار لاکھ 33 ہزار سے زائد ازبک شہری روس گئے، جہاں سیاحت کے ساتھ ساتھ خاندانی ملاقاتیں اور کاروباری سرگرمیاں بھی سفر کی اہم وجوہات رہیں۔ سعودی عرب بھی نمایاں سیاحتی مقامات میں شامل رہا، جہاں تین لاکھ 66 ہزار سے زائد ازبک شہریوں نے سفر کیا۔ حکام کے مطابق ان میں بڑی تعداد عمرہ اور دیگر مذہبی زیارات کی ادائیگی کے لیے گئی۔
ترکیہ ازبک سیاحوں میں تیزی سے مقبول ہونے والا ملک ثابت ہوا، جہاں دو لاکھ 69 ہزار سے زائد افراد نے سفر کیا۔ تاریخی مقامات، بہتر فضائی روابط اور سیاح دوست ماحول ترکی کی مقبولیت کی بڑی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات بھی ازبک سیاحوں کے لیے ایک اہم منزل رہا، جہاں ایک لاکھ 39 ہزار سے زائد شہریوں نے سفر کیا، خاص طور پر دبئی اور ابوظہبی میں خریداری اور تفریحی سیاحت کو ترجیح دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مصر، چین اور ویتنام بھی ازبک شہریوں کی توجہ حاصل کرنے والے ممالک میں شامل رہے۔ ان ممالک میں سیاحت کے بڑھتے مواقع، ثقافتی کشش اور براہِ راست پروازوں نے ازبک سیاحوں کو راغب کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں ایشیائی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ازبک سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے